97

آزادکشمیر میں ریاست کا پانچواں ستون

آزادکشمیر میں ریاست کا پانچواں ستون

قارئین،آپ کہیں گے یہ لو جی،ایک اور کام سے گیا۔اِدھر کوئی ریاست کے چوتھے ستون کو تسلیم نہیں کر پا رہا۔ایک زمانے سے صحافی اور صحافت خود کو ریاست کا چوتھا ستون منوانے کے درپے ہیں۔اور حکومتیں ہیں کہ کبھی تو لا لی پاپ دے دیتی ہیں اور کبھی منہ میں مرچیں بھر دیتی ہیں۔اُدھر راجہ فاروق حیدر خان اور عمران خان پہ کیا موقوف جو علی الا علان صحافت کو ریاست کا ستون تو کیا ایک اینٹ تک ماننے سے انکاری ہیں وہاں امریکہ کے ڈونلڈ ٹرمپ صحافت اور صحافیوں سے دشمنی کرتے نہیں تھکتے اور انہیں ہمیشہ سخت سست،مکار،فریبی وغیرہ ٹائپ کے اعزازات سے نوازتے رہتے ہیں۔رہ گئی بھارت اسرائیل وغیرہ ٹائپ ملکوں کی صحافت تو وہاں صحافی حکومتوں کے گماشتے بن کر زندگیاں گذار اور آبرو بچائے پھرتے ہیں۔۔۔۔اور یہاں میاں آتش ریاست کا پانچواں ستون دریافت کرنے کی نوید سنانے کو بے چین ہیں۔لیکن جناب میں بقائمی ہوش و حواس ریاست کی انٹرنیشنل تعریف میں تحریف و اضافے پر مُصر ہوں۔اور خاص کر جب بات ریاست کے ستونوں کی ہو گی تو اس میں مرکزی ستون”عوام“یعنی”آبادی“کو نظر انداز کر کے کوئی بھلا ریاست کی بات کیسے کر سکتا ہے۔اور یہ غلطی آجکل ریاستِ علامتیہ آزادکشمیر کے حکمران کر رہے ہیں۔اور یاد رہنا چاہیئے کہ عوام یعنی آبادریاست کا صرف مرکزی ستون ہی نہیں وہ پلاٹ بھی ہے جس پر ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ورنہ اگر عوام کو چھوڑ دیا جائے تو پھر ملک نام کا حدود اربع صرف ایک جا گیر بن کے رہ جاتا ہے۔جس میں پھر حکومتیں نہیں بدلتیں بلکہ”اونر“یعنی مالک بدلتے رہتے ہیں۔وہاں پھر عوام کی گنتی صرف مضارعوں اور”کاموں“میں ہوتی ہے۔جو زمین پر کام کرتے اور مالک کیلئے فصلیں اگاتے ہیں۔اور پاکستان یا آزادکشمیر کی نامکمل یا ادھوری ریاستیں چاہے جو کچھ بھی ہیں کم از کم کسی کی جاگیریں اور مربعے نہیں ہیں۔اور یہ دونوں ٹکڑے زمین کے تو نظریاتی اور وعوامی ضرورت کے تحت وجود میں آئے ہیں۔برصغیر کے دو ٹکڑے زمینی سرحدوں یا ملکیت کے تنازعے پر نہیں ہوئے تھے۔بلکہ یہ نظریاتی،ثقافتی،سماجی اور مذہبی بنیادوں پر دو قومی نظریے کے تحت وجود میں آئے تھے۔تب چاہے سعوری عریبیہ،قطر،دبیہ وغیرہ یا دنیا میں کہیں بھی بادشاہتوں اور وراثتوں کی بنیاد پر ملک یا ریاستیں وجود میں آتی ہوں کم ازکم برصغیر میں یہ نہیں ہو سکتا۔مگر کیا کیجئے۔۔۔۔پاکستا ن کو تو فی الوقت بخش دیتے ہیں۔مگر آزادکشمیر میں ریاست کی غلط تعریف کرنا خصوصاً ایسی صورت میں جبکہ ریاست کا بڑا حصہ نہ صرف 73سالوں سے نئی غلامی میں ہے اور گذشتہ برس سے بھارت کے نریندر امودی نامی نازی ازم کے پیروکار نے اسے اپنے باپ دادا کی جاگیر بھی ڈکلیئر کر نے کی واردات بھی ڈال رکھی ہے۔ایسے میں تو آزادریاست کا کردار اور واضع ہو جانا چاہیئے تھا،جس میں اولیت صرف اور صرف یہاں وہاں کی آبادی ”عوام“ کو حاصل ہوتی۔وہاں کے کشمیری اس لیئے اہم ہیں کہ یہ نام نہاد آزاد ریاست تو صرف اُن کے نام پر قائم ہے۔ورنہ کیا”پدی کیا پدی کا شوربہ“اور بھار ت کے کشمیر کو بھارت قرار دینے کی آئینی ترمیم اور اعلان کے بعد تو کچھ اور ہوتا نہ ہوتا اس آزاد ریاست کے وجود کی جوازیت ضرور ختم ہو رہی تھی، وہ تو بھلا ہو عمران خان اور قومی سلامتی کے اداروں کا جنہوں نے سارے شور شرابے کے باوجود پاکستان کا ایک نیا نقشہ جاری کر کے کم از کم اس متنازعہ خطے کے متنازعہ اور پاکستان کا دعوہ ہونے کا اعلان تو سامنے لایا۔ورنہ کیا غریب،پسماندہ اور اپنے ہی حکمرانوں کے استحصال کا شکار ان ڈھائی تحصیلوں کی کوئی ریاست بن پاتی؟۔ عمران خان اور اداروں نے ان کے آزاد ریاست ہونے کے جواز کو تازہ کیا یا از سر نو زندہ کیا، یہاں کے وزیراعظم نے چھوٹتے ہی اپنی ازلی غلطی کا ازالہ کرنے کو نہیں بلکہ چھپانے کیلئے صحافیوں سے قربتیں بڑھانے کی سوچی تاکہ انہیں ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا جھانسہ دے کر آنیو الے الیکشن میں اپنے لیئے استعمال کیا جا سکے۔مگر اب کہاں جناب، اب کون مانے گا،نیلم،جہلم،آزاد پتن،ہولاڑ دھان گلی اور منگلا کے پلوں کے نیچے سے بہت پانی گذر چکا ہے۔اب صحافی چوکس،بیدار و خبردار ہیں اب نہ وہ تو آسانی سے کسی کا گماشتہ بننے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہی آلہ کار۔ہاں چند ایک کو آپ دوستی کا جھانسہ دے سکتے ہو۔مگر یہ تو طے ہے کہ سیاست دان کبھی صحافت کا دوست نہیں ہو سکتا۔البتہ یہ درست ہے کہ سردار عتیق احمد خان اپنے والد سردار محمد عبدالقیوم خان کی سنت پر چلتے ہوئے صحافیو(کچھ)کا احترام کرتے ہیں۔کچھ سیاستدان اپنا مفاد جان کر صحافیوں پر نوازشیں کرتے رہتے ہیں۔طارق فاروق،راجہ نثار،بیرسٹر سلطان محمود اور اب نئے آنے والے امیدوار سردار مختار احمد اور راجہ طارق، سابق میاں وحید اور مسلم کانفرنس کے بچے کچھے چند لوگ صحافیوں کی عزت کرتے ہیں۔حلقہ نمبر3کے نئے امیدوار سردار مختار احمد گو کہ کشمیر کونسل کے رکن بھی ہیں۔لیکن انتخابی سیاست میں نئے ہونے کے باعث صحافت کو چوتھے ستون اور عوام کو پانچویں بلکہ پہلے ستون جتنا درجہ اور اہمیت دیتے ہیں۔جو یقیناً سردار محمد عبدالقیوم خان کی پرانی صحبت کا ہی اثر ہو سکتا ہے۔لیکن سچ یہ ہے کہ خاص طور پر صحافیوں کو حکومتی ارکان سے خبردار اور دور رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ کوئی بھی حکومت میں ہو۔صرف دباؤ میں اور اپنی ضرورت کے وقت ہی اپنے تین ستونوں کی رٹ چھوڑتے اورصحافت و عوام کے کان مروڑتے ہیں۔اس لیئے مشتری ہو شیار باش، چوتھے اور پانچویں ستون کو خود کو منوانے کیلئے ابھی مزید جدوجہد کرنی ہو گی۔ اللہ حامی و ناصر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback