92

جشن آزادیَ پاکستان

جشن آزادیَ پاکستان                    تحریر : اشتیاق احمد آتش

گذشتہ 14اگست سے پہلے تک یہ جشن آزادیء پاکستان، پاکستان میں کم اور مقبوضہ کشمیر میں زیادہ منایا جاتا تھا ۔ پچھلے برس5اگست کو جب بھارت نے دفعہ70اور35اے کا خاتمہ کر کے کشمیر کو اپنے آئین میں تبدیلی کر کے بھارت کا حصہ قرار دے دیا تو جموں وکشمیر کے لوگوں کو ایسا دُکھ لگا کہ وہ ساری خوشیاں اور سارے جشن بھول گئے ۔ اور صرف ایک وادی جموں وکشمیر کی بربادی کا سوگ مناتے، روتے چلاتے اور احتجاج کرتے رہ گئے ۔ حتیٰ کہ عیدیں اور شب برات بھی نہ گذشتہ برس نہ اِس برس اُتنے جوش و جذبے سے منائی گئی جو اس طرح کے تہواروں اور قومی دنوں کا ایک خاصہ اور روایتی طریق ہوا کرتا تھا ۔ ہاں ایک گذشتہ برس آزاد جموں کشمیر کے یوم تاسیس پر ضرورت سے زیادہ جو ش و جذبہ عوام اور حکومت نے دکھایا مگر یہ صرف تجدید عہد تھا ۔ کوئی جشن نہیں تھا صرف جوش و جذبہ تھا ۔ اپنے بھائیوں کی آزادی کی لڑائی میں ان کا ساتھ دنیے کا ،پورے کشمیر کو آزاد کروا کے اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا ۔ اقوام متحدہ کے دیے گئے حق خوداردیت کے حصول کے عزم کا اور ہر حال میں جدوجہد آزادی جاری رکھنے کا ،آج دنیا بھر کے ساتھ ساتھ آزادو مقبوضہ کشمیر میں بھی یہ دن منایا جا رہا ہے ۔ لیکن اس بار بھی وہ روایتی جو ش و جذبہ نظر نہیں آرہا ۔ اس کی وجہ

وہی پرانی دفعہ 70اور35اے کا خاتمہ ا،یک سال سے مسلسل جاری80لاکھ سے زائد انسانوں (کشمیریوں )کا فوجی محاصرہ ،کرفیو،ظلم و ستم،اور اس پر طرح یہ کہ سیز فائر لائن یا کنٹرول لائن جو کچھ بھی وہ خونی لکیر ہے اُس کے اِس پا رآزادکشمیر میں آئے روز ہونےوالی فائرنگ،فوجی جوانوں اور نہتے شہریوں کا زخمی ہونا اور پھر شہادتیں ،یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ ہے کہ کشمیری جشن اور خوشیاں منانا بھول گئے ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان نے ظلم کی برسی 5اگست کو جو بیانات دیے اور جو نیا نقشہ جاری کیا وہ بھی نہ تو جموں وکشمیر کے عام لوگوں کو سمجھ آیا اور نہ ہی آزادحکومت سمیت کسی نے بھی اس پار اور اُس پار کے کشمیریوں کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ جس کا فطری نتیجہ، غم ،مایوسی اور نا اُمیدی ہے ۔ اور اس نا اُمیدی میں اب کشمیری کیا جشن آزادی منائیں گے ۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہہ مسلمہ ہے کہ5اگست کواور6 اگست کو حکومت پاکستان ،وزیراعظم پاکستان کی مظفرآباد میں آمد،دوسرے روز اپوزیشن لیڈر اور ن لیگ کے سربراہ کا پھر تاریخ میں پہلی بار اسمبلی سے خطاب ،یہ سب کچھ اس قدر متنازع بنا دیا گیا کہ دوسرے روز پی ٹی وی نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کی کوریج سے بھی انکار کر دیا ۔ تب قریباً دو سال بعد آزاد حکومت یا اسمبلی کے سپیکر نے پرائیویٹ چینلز کو اسمبلی اجلاس کی ڈائرکٹ کوریج کیلئے بُلایا،بظاہر یہ پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کی عداوت کا ایک مظہر تھا ۔ جو بحرحال آزادکشمیر اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اتنی شدت سے سامنے نہیں آنا چاہیئے تھا ۔ کیونکہ اس ایک واقعے نے مظفرآباد سے سرینگر تک شدید مایوسی اور غم و غصہ پھیلایا جن کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ جو جوش و جذبہ14اگست کو مظفرآباد اور سرینگر میں دکھائی دینا چاہیئے تھا ۔ وہ13اگست کی شام تک کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ خود آزاد حکومت کا اتنا شدید غم و غصہ اس واقعے پر غیر اعلانیہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کشمیر کلچرل اکیڈمی نے طے شدہ14اگست کا پروگرام بھی منسوخ کر دیا ۔ اب اس سرکاری پروگرام کی منسوخی کا ذمہ دار کون ہے یہ تو قومی سلامتی کے ادروں کو دیکھنا چاہیئے یا حکومت آزادکشمیر کو چھان بین کرنی چاہیئے لیکن اس سے آزاد علاقے کے عوام پر منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں ۔ التبہ سرینگر اور مقبوضہ وادی چونکہ ڈائریکٹ بھارت کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے ۔ اس لیئے دشمن کو فکری نظریاتی اور جذباتی چوٹ پہنچانے کیلئے وہاں احتجاج اور پاکستانی جھنڈوں کی بہار کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس ساری صورت حال کی ذمہ داری آزادکشمیر کے لوگوں پر عائد نہیں کی جا سکتی کیونکہ لوگوں کو گائیڈ کرنا ان کے مثبت جذبات کو ابھارنا حکومت آزادکشمیر یا دیگر ذمہ دار اداروں کا فرض منصبی ہے اس میں ہونے والی ذرا سی کوتاہی کشمیریوں اور پاکستان میں فاصلے بڑھا رہی ہے اب ایک صرف پاکستان آرمی ہے جسے عوام تحریک کشمیر اور جدوجہد آزادی کا محافظ سمجھتے ہیں ۔ ورنہ آزادکشمیر و پاکستان دونوں حکومتوں سے کشمیریوں کا اعتماد اُٹھ چکا ہے وہ ان سے کھینچے کھینچے اور نالاں رہنے لگے ہیں خاص طور پر5 اگست 2019ء کے بھارت کے بزدلانہ ،ظالمانہ اور جارہانہ اقدام کے بعد کشمیر و پاکستان کی حکومتوں کے کمزور اور پھسپھسے ردعمل سے عوم نہ خوش ہیں نہ مطمعئن اور وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دونوں حکومتیں بھی کسی انٹرنیشنل سازش کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے میں ناکام ہیں ۔ البتہ پاک فوج کی طرف سے سیز فائر لائن پر ہونے والی فائرنگ کے منہ توڑ جواب اور آزداکشمیر کی سرحدوں کی مسلسل حفاظت اور قربانیوں کی وجہ سے کشمیر کا بچہ بچہ اپنے پاسبانوں سے محبت کرتا ہے اور برملا یہ اظہار کرتا ہے کہ73برسوں سے عملاً صرف پاک فوج ہی کشمیروپاکستان کے رشتوں کو بچائے چلے آرہی ہے ۔ اور5اگست کو چیف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کا کشمیر میں اگلی پوسٹوں کا دورہ اور جوش و جذبے اور آزاد ریاست کے چپے چپے کی حفاظت کا عزم، کشمیریوں کو بھا گیا ہے مگر حکومتوں کے رویے،پالیسیوں اور کمزور ردعمل سے عوام کو مایوسی ہے اس کے باوجود پاکستان سے محبت کرنے اور جشن آزادی پر خوشی و شادماں ہونے والوں کی کمی نہیں لیکن مسلسل غموں نے ان کے ہاتھ پکڑ اور پاؤں جکڑ رکھے ہیں اور مستقبل کے خوف سے زبانیں گنگ ہیں پھر بھی سارے دل کشمیری کی آزادی اور پاکستان کی سا لمیت و ا استحکام کیلئے زور زور سے دھڑکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback