98

دوہزار اکیس کا نیا نقشہ۔۔۔کالم

دو ہزار اکیس کا نقشہ                                 تحریر:اشتیاق احمد آتش

نہیں جناب نہیں۔آپ کا اندازہ درست نہیں ہے۔یہ وزیراعظم عمران خان کے نقشہ(میپ)2020کا موضوع نہیں ہے۔یہ پاکستان یا جموکشمیر کے نئے نقشہ کی بات نہیں ہے۔یہ کویڈ19کے بعد دنیا کی نئی صورت اور نقشے کی بات بھی نہیں ہے۔یہ2021جولائی میں بھارت کے نقشے میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں،اسلامی بلاک (نام نہاد)کی توڑ پھوڑ اور جوڑ توڑ کا نقشہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔قارئین یہ2021جولائی کے بعد آزادکشمیر میں بننے والی نئی حکومت کا نقشہ ہے، اس نقشے کو جب میں تصور کی آنکھ سے دیکھتا ہوں تودل بلیوں اُچھلنے لگتا ہے۔کیونکہ میں آزادکشمیر میں گڈ گورنس کی حد تک بہت بہتری دیکھ رہا ہوں۔میں جس شخصیت کو آئندہ وزیر اعظم دیکھ رہا ہوں وہ بہت ہی بے ضرر اور عوامی شخصیت ہو گی۔عمر کی چھ دہائیاں پار کر چُکنے کے بعد اُس شخصیت میں کافی ٹھہراؤ،سنجیدگی اور متانت آچکی ہے۔ آپ کو ایک ہینڈس دیتا ہوں کہ میں اپنے85ء کے نیم سیاسی دور کے بعد کبھی اُس شخصیت کا مخالف نہیں رہا۔اُس شخصیت کا تعلق نارتھ سے ہے۔ وہ بھی سارے بڑے چھوٹے سیاستدانوں، حکمرانوں کی طرح ایک بڑے باپ کا بیٹاہے۔اور اُسے مظفرآباد سٹی کے نو منتخب ایم ایل اے کی زبردست حمایت و پشت پناہی حاصل ہو گی۔جو خود بھی ایک بااختیار وزیر ہو گا اور مظفرآباد کے عوام کی جذباتی اور اقتصادی محرومیوں کا ازالہ کرے گامسئلہ کشمیر کی پیش رفت میں اُس وزیراعظم کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہو گا جتنا سابقہ وزرأ اعظم کا ہوا کرتا تھا۔لیکن یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی بڑا اور مثبت موڑ لے سکے گا۔اور جموں وکشمیر کے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔جناب والا آپ کے ایوان صدر میں بھی ایک مؤثر اور متحرک و مُدبر شخصیت براجمان ہو گی۔اور ایوان صدر سردار محمد عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات خان کے دور کی طرح پھر سے آباد ہو گا۔آج کی نسبت مظفرآباد اور پونچھ کے لوگوں کا عمل دخل نسبتاً زیادہ ہو گا لیکن مظفرآباد ڈویژن سے ٹوٹل دوسرے لوگ سیاست میں متحرک نظر آئیں گے۔صدر اور وزیراعظم میں کافی حد تک ہم آہنگی ہو گی، صدر صاحب حکومت کی دل کھول کر راہنمائی کریں گے۔صدارتی مشیر کوٹلی اور مظفرآباد سے ہو سکتے ہیں ایک خوبصورت اور حیران کن بات یہ کہ آنے والی حکومت میں متحدہ قومی موومنٹ کے بھی ایک سے دو وزیر شامل ہو سکتے ہیں جو پہلے کے مقابلے میں کافی مثبت کردار ادا کریں گے۔ایک دو آزاد امیدوار زبردست کامیابی حاصل کریں گے۔مگر غالب امکان ہے کہ وہ حکومتی جماعتوں میں شامل ہو جائیں گے۔وزیراعظم سے زیادہ ریاست میں صدر اور کچھ وزرأ کا طوطی بولے گا۔ثاقب مجید اور سردار مختیار احمد خان کا ستارہ خوب چمکے گا۔بھمبھر،سماہنی،کوٹلی مرکز،چڑہوئی،پلندری کے علاوہ میرپور اور ہٹیاں سے بھی چند نئے سیاست دان ابھر کر سامنے آسکتے ہیں۔مہاجرین نشستوں میں بھی کچھ نئے چہرے سامنے آسکتے ہیں۔ضلع حویلی کہوٹہ میں پارٹیاں تبدیل ہو سکتی ہیں یا چہرہ بدل سکتا ہے۔راولاکوٹ میں ایک آدھ نیا چہرہ اور نیلم ویلی میں ملا جُلا رجحان رہے گا۔عوام خوابوں اور نعروں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے زیادہ پریکٹیکل لوگوں کاساتھ دیں گے اور ہم کہ سکتے ہیں کہ کافی حد تک سیاست میں تبدیلی آئے گی۔بعض سینئر سیاستدان آنے والی حکومت میں اہم کر دار بھی ادا کر سکتے ہیں۔مخصوص نشستوں پر اسلام آباد میں براجمان نامعلوم لوگوں کے بجائے کسی نہ کسی طور نمائندہ لوگ سامنے آئیں گے۔تاہم ایک آدھ بھرتی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔۔قارئین کرام یہ سب کوئی خواب نہیں ہے نہ سو فیصد میری خواہش کا تماشا ہے بلکہ یہ باوثوق معلومات اور تجزیہ ہے۔جسے مستند تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ کوئی بھی طاقت قبل از وقت اس کی تصدیق نہیں کرے گی۔مگر مختلف لیکس کی طرح کچھ منصوبہ سازیاں لیک ضرور ہوتی رہیں گی۔اور آپ کا میرے اس آرٹیکل پر اعتماد بڑھتا چلا جائے گا۔احتساب بیورو کی جگہہ نیب لے یا نہ لے مگر کچھ لوگوں کا احتساب کا کھیل ضرورہو گا،بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر فائرنگ اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم میں کمی آئے گی، فوجی محاصرہ اور کرفیو میں نرمی آکر سیاسی شعبدہ بازی کا ایک نیا دور شروع ہو گا، جسے بھارت ایک بار پھر سیاسی عمل کا نام دے گا،ساری بہتری کے باوجود میری نظر میں عوام کے اپنی حکومت پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اعتبار میں کمی آئے گی۔البتہ پاکستان کی حکومت اور ادارے کوئی مثبت معرکہ سرکر سکتے ہیں۔اس سارے پیش منظر کا انحصار عوامی ردعمل پر منحصر رہے گا۔دعا اور خواہش ہے کہ میرا اللہ آنے والی حکو مت میں عوام اور مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے آسانیاں پیدا فرمائے۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback