70

مضبوط کشمیر پالیسی کی ضرورت

مضبوط کشمیر پالیسی کی ضرورت
5اگست 2020کو بھارت کے غیر قانونی غیر اخلاقی اور غیر انسانی اقدام کو ایک سال مکمل ہو گیا۔اس سال کے دوران وزیراعظم پاکستان کی ستمبر2019میں سلامتی کونسل میں جذباتی تقریر کے بعد اس کے مقصد کو نا تو اجاگر کیا جا سکے اور نہ ہی اسے دہرایا اور پھیلایا جا سکا، جس کی وجہ سے بھارت کو کہیں نہ کہیں شہہ ملی اور اس سے زیادہ شہہ بھارت کو دنیا کے بااثر اور طاقتور ممالک کی خاموشی یا پھپھسے ردعمل سے ملتی رہی اور بھارت نے کشمیر کے بعد سارے بھارتی مسلمانوں اور اقلیتوں پر غیر انسانی وار کر کے اپنے ملک میں خانہ جنگی کی صورت پیدا کر دی اور کشمیر کے بعد بھارتی مسلمانوں پر بھی ایک قیامت گذر گئی۔دنیا اس پر بھی اپناپورا ردعمل نہ دے سکی۔عالمی تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کا بھارت کے سارے عمل اور پالیسی کو پاکستان کی کشمیر پالیسی سے چوڑنا اگر تسلیم نہ بھی کیا جائے تب بھی سمجھ میں آتا ہے، پاکستا ن کی ایک مضبوط کشمیر پالیسی اور پاکستان کے خود بااثر اور طاقت ور ہونے سے نہ صرف کشمیریوں کیلئے تحفظ کا امکان پیدا ہوتا ہے بلکہ بھارت میں بسنے والے 24کروڑ سے زائد مسلمانوں کو بھی تقویت اور بچاؤ ملتا ہے۔اس لیئے جموں وکشمیر میں بھارت کے ایک سال کے فوجی محاصرے اور کرفیو کے تسلسل کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ حکومت پاکستان ایک جاندار اور مضبوط کشمیر پالیسی اپنائے جسے نہ صرف آزاد حکومت کی مکمل حمایت بلکہ دوست ممالک کی آشیرباد بھی حاصل ہو۔ایسی ہی ایک پالیسی کشمیریوں کی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بھارتی مسلمانوں کی حفاظت کی بھی ضامن بن سکتی ہے۔ورنہ مودی کا باولاپن خطے کو کسی خطرناک صورتحال سے دو چارکرسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback