75

چورتواں یوم آزادی پاکستان….74

۔74واں یوم آزادی پاکستان

14اگست 1947ء سمیت آج 14اگست 2020ء تخلیق پاکستان کو 73برس پورے ہو گئے یہ دن خوشی اور جشن کاتو ہے ،شاد بانی اور امبساط کابھی ہے ہلہ گلہ اور شورشرابابھی کیا جاسکتا ہے لیکن صرف یہ سب کچھ پاکستان کے تقاضے پورے نہیں کرتا ،نہ ہی عقل مند ،دانش مند ،مفکر ومدبر پاکستانیوں کو زیب دیتا ہے،کہ آج 74 واں یوم آزادی مناتے ہوئے بھی ہم وہ مقاصد حاصل نہیں کر پائے ،جن کے لیے یہ پاک وطن تخلیق وقائم کیا گیا تھا ،ہم آج تک اپنے آئین نظام ،اخلاق اوراصولوں کے حوالے سے ادہورے ہیں ہم آج تک اپنی منازل اورپڑا وَ کے حوالے سے نامکمل ہیں ،ہم نے ملک بدل اور بنا لیا مگر وہ غاصبانہ طریق ،وہ غلامانہ سوچ نہیں بدل سکے ۔ ہمارے سارے قوانین ہمارے سارے اداروں کاطرز عمل انگریز کے اس قانون اور عمل کا عکس ہے جو اس نے غلام ملک میں اپنا رکھا تھا ہم نے کبھی انگریز کا وہ قانون اپنانے کی کوشش نہیں کی جو انگریزوں نے بر طانیہ میں لاگو کر رکھا ہے ، ہم آج بھی حکومتی کل پرزوں کے علاوہ ساری عوام کو شک وشبے کی نگا سے دیکھتے ہیں اور یہ صرف عام آدمی کے اخلاق وکردار تک محدود نہیں بلکہ ہم اس کی وطن سے محبت اور اخلاص پر بھی شک کرتے ہیں ۔ ہم نے ایک دین کاپیروکار ہوتے ہوئے اتنی تفریق پیداکر رکھی ہے کہ وطن کی محبت کو بھی فرقوں اور علاقوں سے ماپتے ہیں ۔ ہاں ہمارے اندر بہت سے تخریب کار اور دشمن کے آلہ کاربن جاتے ہیں مگر یہ بیماری بھی غاصب انگریزکی پھیلائی ہوئی ہے کہ وہ ہم میں سے کچھ کو خرید کر جاگیریں اور اعزازات تفویض کر دیا کرتا تھا اور باقی ہندوستانیوں کو انکی عزت واطاعت پر مجبور کرتا تھا کہ آزاد ملکوں کے یہی طور ہوا کرتے ہیں اور یہ سب صرف حکمرانوں پر ہی موقوف نہیں بلکہ اےک اےسی سوچ پےدا کر کے پروان چڑھادی گئی ہے کہ عوام میں سے ہر ایک دولت اوراعزازات کے حصول کی لیے وہی سب کچھ کرنے کے لیے بے چین رہتا ہے ۔ جو انگریز اپنے اعزاز ےافتگان سے طلب کیا کرتا تھا ۔ پھر حکومت صرف اپنے اہلکاروں کو مضبوط اور طاقتور بنانے میں مگن رہتی ہے ۔ ان کی حد تک فلاح و بہبود کو محدود کر دیا گیا ہے ۔ باقی کے22کروڑ لگتا ہے آج بھی غاصب انگریز کے غلام ہیں اور حکومتوں کا طرز عمل ہمیشہ آقاؤں کے گماشتوں والا رہتا ہے اب وقت آگیا ہے کہ حکومتیں اور عوام اپنا طرزعمل بدلنے کا فیصلہ کریں اور اُن احداف کے حصول کیلئے جدوجہد شروع کریں جو آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے وقت قائداعظم نے مقرر کئے تھے ۔ معاشی و اقتصادی کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی بھی صرف اسی نقطہ ء کیمیا میں مضمر ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback