84

گلگت بلتستان،آئینی تقاضے

گلگت بلتستان،آئینی تقاضے
تاریخی طور پر گلگت بلتستان وادیئ جموں کشمیر کا حصہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا جزو لا ینفک ہے،تقسیم ہند کے وقت بھی گلگت بلتستان جموں وکشمیر کا حصہ تھا اور تقسیم ہندکے عمومی قانون کا اس پر بھی اطلاق نہیں ہوتا تھا جیسے ہندوستان کی دوسری درجنوں ریاستوں کوتقسیم کا حصہ نہیں بنایا گیا ایسے ہی گلگت بلتستان کو بھی ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا۔جب مسلمانان جموں وکشمیر نے مہاراجہ کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے لڑ کر آزاد کشمیر کا ساڑھے چار ہزا ر مربع میل کا رقبہ آزاد کروایا ایسے ہی گلگت بلتستان کے لوگوں نے بھی لڑ کر 28ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کروایا۔دراصل آزادکشمیر اور گلگت بلتستان ایک ہی جزو تھے۔جنہیں بعد میں انتظامی مشکلات کی بنا پر معاہدہ کراچی کے زریعے حکومت پاکستان کے زیر انتظام دیا گیا۔یہ معاہدہ صرف20سال کیلئے تھا لیکن تعمیر وترقی کی رفتار کم ہونے کی بنا پر آزاد حکومت اس علاقے کو اپنی عمل داری میں اور زیر انتظام نہ لے سکی۔دوسری طرف حکومت پاکستان کے آئین میں بھی آزادکشمیراور گلگت بلتستان کو کسی بھی آرٹیکل کے زریعے کور نہیں کیاگیاہے۔البتہ اقوام متحدہ کی قررادادوں کے مطابق آزادکشمیر اور گلگت بلتستان دونوں ہی علاقے پاکستان کے زیر کنٹرول ہیں۔ان میں انتظامی بہتری کیلئے حکومت پاکستان مثبت قدم اُٹھا سکتی ہے۔لیکن ان اقدامات سے ان علاقوں کی متنازعہ حیثیت پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیئے۔خصوصاً 5اگست 2019کو بھارت کی طرف سے سارے متنازعہ علاقوں کوآئینی طور پر بھارت کا حصہ قرار دیے جانے کے بعد پاکستان کو مزید احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ کسی بھی اقدام کو دنیا اور کشمیری کسی عالمی ایجنڈے کا حصہ تصور کرکے بدگمان ہو سکتے ہیں۔اس لیئے پاکستان کوکوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے جموں وکشمیر سے محبت کے رشتوں اور اس کی جداگانہ اور متنازعہ حیثیت کو مد نظر رکھنا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback