36

گلگت بلتستان،آف دی ریکارڈ

گلگت بلتستان،آف دی ریکارڈ            تحریر:اشتیاق احمد آتش

میری ریاست،عجیب ریاست،میرا ملک، عجیب ملک،جن معاملات،موضوعات پر ”آن دی ریکارڈ“باتیں کرنا ہوتی ہیں اُن پر ”آف دی ریکارڈ“گفتگو کی جاتی ہے۔جو میٹنگ جو سیشن ”آن دی کیمرہ“ہونے چاہیئں،وہ یہ قوم ”اِن کیمرہ“کرتی ہے۔رب اِنہیں نظر بد،خسارے اور قوم کے غیض و غضب سے محفوظ رکھے۔یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ہم جب جب بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مغائر جائیں گے۔کمزور ہونگے اور نقصان اُٹھائیں گے۔ تا شقند اورشملہ معاہدہ سے5اگست2019تک ہم نے کشمیر ایشو پر نقصان ہی اُٹھایا ہے۔اپنا آدھا ملک گنوایا ہے۔لاکھوں فوجی نوجوانوں اور کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔سیز فائر لائن پر آئے روز درجنوں زخمی اور شہید ہوتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر کے اندر جعلی مقابلوں اور حریت پسندی کے الزامات میں روزانہ آدھا درجن کشمیری نوجوان جان سے جاتے ہیں۔ستمبر2019ء اور ستمبر2020میں اقوام متحدہ میں وزیراعظم پاکستان کے خطابات سن کر ہم اتراتے پھرتے ہیں۔مگر نتیجہ صفر ہے۔امریکہ بہادر سمیت اقوام عالم بھارت

کے ہمنوا بنے رہتے ہیں۔برسہا برس سے میرے جسیے قلمکار مشورہ دے رہے تھے۔کہ الحاق پاکستان سے پہلے پاکستان کے آئین میں متنازعہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ان علاقوں کو کوئی سپیشل سٹیٹس دیں۔مگر کسی حکومت کے کان تو کان،سر تک میں جوں تک نہیں رینگی۔مرکزی اداروں کے دائرہ کار غیر آئینی طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان تک بڑھائے جاتے رہے۔پھر بجائے پاکستان کے آئین میں اس حوالے سے اصلاحات لانے کے آزادکشمیر میں آئینی اصلاحات کا مشروط سلسلہ شروع ہوا۔اور چند روپے اکھٹے کرنے کا اختیار دے کر مزید اختیارات محدود کر دیے گئے،حالا نکہ ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان سے صرف گڈ گورنس اور سبسڈیز کی ضرورت تھی، کسی مصنوعی سٹیٹ کے سٹیٹس کی ہر گز نہیں۔۔۔ اور پھر اس کے بعد اب”آف دی ریکارڈ“اجلاسوں میں گلگت بلتستان کا سٹیٹس تبدیل کرنے پر بحث ہوتی ہے اور قوم کو بے خبر رکھا جاتا ہے۔آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔بعد میں میاں نواز شریف کی اے پی سی میں متنازعہ تقریر کرنے پرمعاملہ کھُلتا ہے۔وہ بھی ایک دوسرے پر الزامات کی صورت میں،پوری وادیئ جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کی نظر میں پاکستان کیحکومت اور ساری سیاسی جماعتیں شک کے زمرے میں آجاتی ہیں اور خود آزاد کشمیر کی حکومت اور جماعتیں،جنہیں سرے سے باہر رکھا گیا تھا وہ بھی مشکوک ہو جاتی ہیں۔آزادحکومت کے صدر اور وزیراعظم تک کو لَب کھولنے سے پہلے ہی خاموشی کا حکم دے دیا جاتا ہے۔آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ اگر یہ پاکستان اور جموں وکشمیر و گلگت بلتستان کے مفاد میں ہے تو الحمد للہ، مگرکوئی کھل کر بات کیوں نہیں کرتا۔اگر آزادکشمیر بھر کی سیاسی پارٹیاں اسے فائدہ مند سمجھتی ہیں تو عوام سے منہ کیوں چھپتائی پھر رہی ہیں۔پاکستان کے حکمران اور سیاسی راہنماء پاکستانی و کشمیری قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے ؟ کیا یہ کام بھی اب آئی ایس پی آر کو کرنا پڑے گا؟ قارئین کہیں نا کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔بات صرف گلگت بلتستان کی نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگ بھی ڈر رہے ہیں اور خطرہ محسوس کرتے ہیں،ورنہ آزادکشمیر کے حکمرانوں اور کم از کم مسلم کانفرنس اورجموں وکشمیرپیپلزپارٹی جیسی کشمیریوں کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کو تو اس ”خفیہ“مشاورت میں شامل کیا جاتا۔۔۔۔پاکستان کی اسمبلی یا سینٹ میں مشروط نمائندگی کی بات تو ریٹائرڈ چیف جسٹس منظورالحسن گیلانی کب سے کررہے ہین۔اور قابل عمل تجاویز بھی دے چکے ہیں۔لیکن نہ تو اس پر کوئی پیش رفت ہوئی۔اور نہ ہی موجودہ پیش رفت اِن خطوط پر کی جا رہی ہے۔پھر یہ کونسا ایجنڈا ہے ؟کیا یہ اقدامات سی

پیک،پاکستان یا پھر چائنا کے مفاد میں ہیں؟کیا ان اقدامات کے بعد بھارت کے ہاتھ مزید مضبوط نہیں ہو جائیں گے ؟کیا اس کے بعد ہر دوطرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف نہیں ہو جائے گا؟کیا اس ے بعد تنازعہ کشمیر دو طرفہ علاقائی مسئلہ بن کر نہیں رہ جائے گا؟کیوں،کیا صورت موقع فلسطین اور اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب ممالک کی صورت حال جیسی نہیں بن جائے گی جس کی پاکستان اب تک مخالفت کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔۔۔مانا جناب کہ اس فلسفے کو چند ایک یا کچھ زیادہ گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔چند لوگ اسے گلگت بلتستان کے وقتی مفاد میں بھی”پراپو گیٹ“کرتے ہونگے۔لیکن کیا آپ تاریخ سے صرف نظر کر لیں گے ؟کیا آپ بھول جائیں گے کہ کل مقبوضہ وادی کا بھارت سے الحاق کرتے وقت شیخ عبداللہ کو بھی اپنی جماعت سمیت اچھی خاص حمایت حاصل تھی۔پھر نتیجہ کیا ہوا۔کیا آج تک تحریک آزادی جاری وساری نہیں ہے۔کیا جموں وکشمیر نے شیخ عبداللہ اور ساتھیوں کے فیصلے کو تسلیم کیا؟کیا تاشقند اور شملہ معاہدوں کے بعد مقبول بٹ،افضل گورو،اور برہانی وانی پیدا نہیں ہوئے؟ میرے پیارے پاکستان کے حکمران مرکز کی سیاسی جماعتوں کی ذیلی کشمیری پارٹیوں سے انگوٹھے لگوا کر وقتی طور مطمئن تو ہو سکتے ہیں۔مگر یہ مکمل آمادگی نہیں ہو سکتی۔اور اقوام متحدہ کی قراردادیں الگ برباد ہو جائیں گی۔جموں وکشمیر کے لوگوں کے ذہنوں میں گذشتہ د س سالوں سے یہ بات راسخ ہو چکی ہے۔کہ امریکہ بہادر زبردستی اور بھارت کے مفاد میں کسی سازش کے تحت کشمیریوں کی آزادی کی خواہش ہی کو سلب کرنا چاہ رہا ہے اور پاکستان امریکہ کے دباؤ میں کچھ اقدامات اُٹھانے پر مجبور ہو رہا ہے۔یہ خیال بھی راسخ ہے۔کہ سی پیک معاہدے کے بعد سے چائنا کے پروگرام اور مفادات کو جموں وکشمیر سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ پاکستان کو اپنے،مسلمانوں اور کشمیریوں کے مفاد میں کام کرنا چاہیئے، کوئی غیر مقبول فیصلہ کرنا ناگذیر ہوجائے تو ریاستی جماعتوں اور ریاست کے عوام کو اعتماد میں لینا چاہیئے۔حکومت پاکستان اپنے آئین،قومی مفاد اور جمہوریت وغیرہ کا جتنا مرضی راگ الاپتی رہے۔جتنی مرضی سیاسی پارٹیوں کی ریاستی شاخیں اقتدار کے پجاریوں کو ساتھ ملا کر بنا لی جائیں،مگر یقین اور اعتماد کا شیشہ ٹوٹ چکا ہے، عوام بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہو گی،ہاں البتہ پاکستانی عوام کی طرح، ریاستی عوام کا بھی پاک فوج اور فوج کے سپہ سالار پر حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں سے زیادہ اعتماد قائم ہے۔اور فوج پر انگلی اُٹھانے والے سارے سیاستدانوں کے الزامات کے باوجود ابھی تک غیر متزلذل ہے۔لیکن آزاد جموں وکشمیراور گلگت و بلتستان کے حوالے سے اور مستقبل کا ہر فیصلہ بحرحال حقیقی کشمیری جماعتوں،بشمول گلگت و بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر اور حریت قیادت کی آمادگی کے بعد ہی ہو گا۔چاہے وہ صرف آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے متعلق ہو یا مہاراجہ کی چھوڑی پوری ریاست کے بارے میں ہو، وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک دوسرے کے قریب کر کے ایک یونٹ بنانے کیلئے کام کیا جائے۔ اس کے بجائے ایسے حالات میں اِن دو نوں حصوں کا ایک دوسرے سے دور اور الگ ہونا نہ تو پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔نہ جموں وکشمیر کے مفاد میں اور نہ ہی چین کے مستقبل کے منصوبوں کے مفاد میں۔اس لیئے اب وقت آگیا ہے۔کہ سپہ سالار پاکستان کی فوج کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حاصل اختیار متنازعہ علاقہ کی سا لمیت کی حفاظت کیلئے استمال کریں اورحفاظت کا فریضہ انجام دینے کیلئے اپنی ٹھوس رائے سب پر واضع کریں۔اور پاکستان کے سارے سیاستدانوں کو سارے آزاد علاقے کے لوگوں کی رائے معلوم کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کا مشورہ دیں۔وہ بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موجود ذیلی جماعتوں سے ہٹ کر، تاکہ کشمیری مطمعئن بھی رہیں اور ان کے پاکستان سے بھائی چارے اور دوستی میں اضافہ ہو اور یہ سب کچھ”اون دی ریکارڈ“ہو کیونکہ۔۔۔ آف دی ریکارڈ اور بیک ڈور ڈپلو میسی نے آج تک پاکستان اور مسئلہ کشمیر کو نقصان ہی پہنچایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback