72

لاک ڈاؤن،چیف سیکرٹری

لاک ڈاؤن،چیف سیکرٹری


چیف سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ڈاکٹر شہزاد خان بنگش نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں انتظامیہ کو غیر ضروری لاک ڈاؤن سے پرہیز کرنے اور ٹاسک فورس کی سفارش بلکہ حکم اور فیصلے پر انتظامیہ کو فوری عمل درآمد کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔چیف سیکرٹری صوبے اور سٹیٹ کا حاکم ہوتا ہے۔مگر پاکستان بھر میں کہیں پر بھی چیف سیکرٹری کو ایسی ہدایت دیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ایسے فیصلے عموماً وزیراعلیٰ یا کابینہ یا ریاست میں وزیر اعظم اور ان کی کیبنٹ کرتے ہیں۔چیف سیکرٹری اتنے بڑے فیصلے صرف اس وقت کرتے ہیں جب صوبے میں گورنر راج لگانا مقصود ہو۔آزادکشمیر میں تو گورنر راج لگایا نہیں جا سکتا۔البتہ صدر راج ٹائپ کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔لیکن کرونا کے بارے میں فیصلوں کا تعلق صرف ریاستی عوام کی صحت سے ہے۔اسے سیاسی انداز میں ہینڈل نہ کیا جائے۔اور اسلام آباد کے سارے اصول اور ہدایات کشمیر کے ماحول سے ہم آہنگ کئے بغیر کشمیر سے بھی دشمنی ہے اور اسلام آباد سے بھی، اس لیئے چیف سیکرٹری اسلام آباد سے گائیڈ لائن ضرور لیں۔لیکن مقامی ماحول کو سمجھے بغیر سب اُسی حالت میں لاگو کرنا نہ مناسب ہے نہ عوام کو اچھا لگتا ہے اس طرح کی کوئی مثال کویڈ19میں نہیں ملتی۔نہ ہی سندھ،بلوچستان یا پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے ا یسی کوئی خبر آئی ہے، منگل کو پھر57لوگ آزادکشمیر سے پازیٹیو آئے ہیں۔جو اصل تعداد سے اس لیئے کم ہے چونکہ ہمارے ہاں ٹیسٹ اتنی تعداد میں اب بھی نہیں کئے جا رہے جتنے ہونے چاہیئں تھے۔ایسی صورت میں چیف سیکرٹری سمیت حکومت کے سارے کل پر زوں کو مشورہ ہے کہ کرونا کی دوسری لہر کو سنجیدگی سے لیا جائے۔اور ہر حکمران یا بیوروکریٹ اپنی اپنی ذمہ داریاں خود اُٹھائے۔وزیراعظم کے کرنے کے سارے فیصلے وہ خود کریں اور پنجاب یا مرکز کی نقالی کرنے کے بجائے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق کریں۔اور اگر لاک ڈاؤن کی صورت بنتی ہے تو فوراً 14روزہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ لے لیا جائے۔ورنہ کل کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری چیف سیکرٹری کے بجائے صرف منتخب حکومت پر آئے گی اور یہ سارا بوجھ حکومت آزادکشمیر کو ہی اُٹھانا ہو گا۔اس لیئے درست فیصلے بروقت لیئے جائیں ورنہ کالجز کے امتحانات اور ربیع الاول کے اجتماعات کے بعد صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback