90

سی یو جے 23اکتوبر2020 اجلاس، آرگنائزیشن کو ہائی جیک کر کے اٹھائے گئے غیرآئینی اقدامات کے خلاف مشاورت کی جائے گی,عبدالحکیم کشمیری مرکزی سیکرٹری جنرل

سی یو جے 23اکتوبر اجلاس، آرگنائزیشن کو ہائی جیک کر کے اٹھائے گئے غیرآئینی اقدامات کے خلاف مشاورت کی جائے گی,عبدالحکیم کشمیری مرکزی سیکرٹری جنرل

سینٹرل یونین آف جرنلسٹس آزادکشمیر کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالحکیم کشمیری نے کہا کہ سی یو جے کے سینئر دوستوں، بانیان اور جنرل کونسل کا 23اکتوبر2020 کا مشاورتی اجلاس یونین کے آئین کی سربلندی کے لیے ناگزیر ہے۔مذکورہ اجلاس میں آرگنائزیشن کو ہائی جیک کر کے اٹھائے گئے غیرآئینی اقدامات کے خلاف مشاورت کی جائے گی۔ ہمار ا سوال صرف اور صرف یونین کے آئین کی بالادستی کے لیے ہے۔ 28ستمبر2020کے اجلاس کے بعد اٹھائے گئے غیرآئینی اقدمات کو تسلیم کرنا آئین توڑنے کے مترادف ہے۔ عبدالحکیم کشمیری کا کہناتھا کہ آئین کی دفعہ29(ب) کے مطابق انتظامیہ اور مجلس عاملہ الیکشن کی مدت سے ایک ماہ قبل الیکشن کمیشن قائم کرے گی۔ کیا ایک ماہ قبل الیکشن کمیشن قائم کیاگیا؟دفعہ 29کی ذیلی دفعہ20کے تحت الیکشن کمیشن کا باقاعدہ نوٹی فکیشن صد ر اور جنرل سیکرٹری کے مشترکہ دستخطوں سے جاری ہونا لازم ہے کیا ایسا کیاگیا؟آئین کی دفعہ 29ذیلی دفعہ(د) کے مطابق صدر اور سیکرٹری جنرل اپنے دستخطوں سے الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستیں فراہم کریں گے کیا اس شق پرعمل ہوا؟عبدالحکیم کشمیری نے کہا کہ صدر سی یو جے نے آئین پر عمل کرنے کے بجائے تمام اضلاع میں آرگنائزنگ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جس کے بعد کچھ اضلاع میں ان کی پسند کے مطابق فہرستیں مرتب ہوئیں۔ آئین میں آرگنائزنگ کمیٹیوں کا وجود تک نہیں ان کمیٹیوں کاقیام عمل میں لاکر غیرآئینی قدم اٹھایاگیا جس کے تسلسل میں اعتراض دور کرنے والی کمیٹی کا صدر کی طرف سے قیام بھی غیر آئینی ہے۔ آئین میں ایسی کسی کمیٹی کاذکر نہیں۔عبدالحکیم کشمیری نے سی یو جے کے بانیان، سینئردوستوں اور جنرل کونسل کے ہر ممبر سے استدعا کی ہے کہ وہ یونین کے آئین کی بالادستی کے لیے کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ آئین یونین کے ممبران کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کی پابندی سب پرلازم ہے۔ اسے توڑنے والوں کامحاسبہ ہونا چاہیے۔ جنرل کونسل کے ممبران کو پسند وناپسند سے نکل کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انا اور فتح وشکست کا کھیل آئین کی حدود کے اندر ہی مناسب ہے۔آئین ہی سپریم ہے کوئی شخص خواہ کتنا ہی معتبر ہو آئین سے محترم نہیں ہر وہ ممبر جو آئین کی دفعات سے انحراف کرتے ہوئے کسی کی حمایت یا مخالفت کرے گا وہ یونین کی تقسیم کا ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے تنظیم کے سینئر دوستوں سے اپیل کی ہے کہ غیر جانبدار دوستوں پر مشتمل ایک کمیشن بنایاجائے جو یونین کے د ستور کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اپنافیصلہ دے جس پر پابندی ہر ا یک کے لیے لازم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback