96

عالمی بحران کے باوجود بڑی کمپنیوں کا کاروبار کیسے چمک رہا ہے؟

عالمی بحران کے باوجود بڑی کمپنیوں کا کاروبار کیسے چمک رہا ہے؟

دھواں ویب آبزرور(بی بی سی نیوز)ایمازون، ایپل، فیس بک اور گوگل کا کاروبار چمک رہا ہے اور عالمی بحران کے باوجود امریکہ میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کا کاروبار دوبارہ بہتری کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

جمعرات کو ایمازون، فیس بک، ایپل اور گوگل نے رواں سال 30 ستمبر تک کی سہ ماہی رپورٹس جاری کی ہیں جن میں کمپنیوں کو ہونے والے منافع اور آمدن کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ ان تمام رپورٹس میں ایک چیز قدرِ مشترک تھی اور وہ یہ کہ پیداوار بڑھ رہی ہے اور اس میں سست وری کی کوئی علامات موجود نہیں ہیں۔

1. ایمازون بڑی کمپنیوں میں ’بادشاہ‘

پہلے تو ہم محض گتے کے ڈبوں اور ڈیلیوری کرنے والی گاڑیوں کو دیکھ کر یہ سمجھ رہے تھے کہ آن لائن شاپنگ کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ لیکن اب ہمیں مزید شواہد مل گئے ہیں۔ عالمی وبا کے دوران سب سے منافع بخش کمپنی ایمازون رہی ہے۔

انٹرنیٹ پر آن لائن شاپنگ اور ای کامرس کی اس مپنی نے تین مہنیوں میں 96.1 ارب ڈالر کی اشیا فروخت کی ہیں۔ 2019 یعنی گذشتہ سال کے مقابلہ یہ رقم 37 فیصد زیادہ ہے۔

ایمازون نے صرف ان تین مہینوں میں 6.3 ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ رواں سال کا یہ سہ ماہی منافع گذشتہ سال کے مکمل منافع کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

شمالی امریکہ میں وبا کے دنوں میں ای کامرس کے کاروبار میں اضافے کو اس کی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے لوگ آن لائن شاپنگ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ایمازون کے اشتہارات اور کلاؤڈ کمپنیوٹنگ کے کاروبار میں بھی خاصا منافع بخش رہا ہے۔

لیکن اس پیداوار کے نتیجے میں نقصان بھی ہوا ہے۔ ایمازون نے کہا ہے کہ کووڈ 19 سے دوران انھیں اس کی روک تھام اور موزوں انتظامات کے لیے 2.5 ارب ڈالر کے اخراجات اٹھانا پڑے ہیں۔

اس دوران کمپنی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایمازون کے ملازمین کے لیے بعض سخت پالیسیاں زیر بحث رہی ہیں اور ان کے دفاتر میں مشکل حالات کی مخالفت میں کئی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

2. سوشل میڈیا پر رونقیں ماند پڑ رہی ہیں

انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے مالک فیس بُک نے بتایا ہے کہ ستمبر میں یومیہ صارفین کی تعداد 2.5 ارب رہی ہے۔ گذشتہ سال ستمبر کے مقابلے یہ 15 فیصد زیادہ ہے، لیکن رواں سال جون کے مقابلے محض 3 فیصد کا اضافہ ہے۔ وہ اس لیے کیونکہ کورونا وائرس کے ابتدائی مہنیوں کے دوران لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے اور کچھ کرنے کو نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا کا رُخ کر رہے تھے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے منافع بخش مارکیٹ، امریکہ اور کینیڈا، میں بھی فیس بک کے صارفین میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس نے سرمایہ کاروں کو بتایا ہے کہ ان کی توقعات کے مطابق یہ رجحان ایسے ہی جاری رہے گا۔

ٹوئٹر نے بھی اسی رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جولائی تا ستمبر اس کے یومیہ صارفین کی تعداد 18 کروڑ 70 لاکھ تھی۔ گذشتہ سال اسی دورانیے کے مقابلے یہ محض ایک فیصد اضافہ ہے۔

3. اشتہارات سے کمپنیوں کی آمدن کم نہیں ہوئی

رواں سال کے ابتدا میں لاک ڈاؤن اور بحران کی صورتحال کے پیش نظر کئی کاروباروں نے اشتہارات کے لیے اپنے بجٹ میں کٹوتی کی تھی۔ اس اقدام سے فیس بُک اور ایلفابیٹ (گوگل اور یوٹیوب کی مالک کمپنی) کی آمدن میں کمی آئی تھی۔

ایلفابیٹ نے رواں سال اپنی شروع کی سہ ماہی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سنہ 2004 میں پبلک لسٹڈ کمپنی بننے کے بعد سے پہلی مرتبہ اس کی آمدن میں بڑے پیمانے پر اتنی کمی واقع ہوئی ہے۔

لیکن اب کاروبار دوبارہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنے اشتہارات پر پیسے خرچ رہے ہیں جس سے ان کمپنیوں کی آمد میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔

گوگل کی آمدن میں 14 فیصد اضافہ ہوا جو ماہرین کی پیشگوئی سے زیادہ تھا۔ منافع میں 59 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11 ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔ سٹاک مارکیٹ میں کچھ ہی گھنٹوں میں اس کے شیئرز کی خرید و فروخت کے بعد ان کی قیمت چھ فیصد بڑھ گئی۔

ٹوئٹر کی آمدن میں 14 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فیس بُک کے لیے یہ اعداد و شمار 22 فیصد تھے۔ فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ مزید اضافے کی امید کر رہے ہیں۔

4. اگلا آئی فون ’بڑا ہونا چاہیے‘

گذشتہ سال کے مقابلے ایپل کی آمدن کچھ حد تک زیادہ (64.7 ارب ڈالر) رہی ہے۔ ماہرین کی توقعات کے برعکس ایپل کے لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز کی فروخت میں بھی امید سے زیادہ اضافہ ہوا۔

لیکن کمپنی کے شیئرز کی قیمت کچھ ہی گھنٹوں کی خرید و فروخت کے بعد کم ہوئی۔ سرمایہ کاروں کو آئی فون کی فروخت سے ہونے والی آمدن میں 20 فیصد سے زیادہ گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

مگر نقصان ایپل کے اریٹر چائنا ریجن میں سب سے زیادہ عیاں تھا۔ کمپنی عموماً وہاں اپنی سیلز کا 20 فیصد کرتی ہے اور وہاں سیلز میں 30 فیصد کمی ہوئی۔

ایپل نے اس حوصلہ کا اظہار کیا کہ صارفین اس کے نئے ماڈل کے آئی فون کا انتظار کریں گے جو کہ اس مرتبہ گذشتہ سالوں کے مقابلے میں قدرے دیر سے مارکیٹ میں آیا۔

چیف ایگزیکٹیو ٹم کک نے کہا کہ ’کووڈ19 کے جاری بحران کے باوجود، اپیل ایپل اپنے نئے ماڈل متعارف کروانے کے سب سے شاندار دور سے گزر رہا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پہلے 5جی والے آئی فون کے ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ مند رہے ہیں۔‘

5. ان کی کامیابی پر کیا دوسرے بھی خوش ہوں گے؟

جیسے عام طور پر ہوتا ہے کمپنیوں کی توجہ سیلز اور منافع پر مرکوز رہی اور ان تنازعات پر نہیں رہی جو کہ ان کی کمپنیوں کے گرد گھوم رہے ہیں جیسے کہ امریکہ میں سخت تر قوانین کے مطالبات میں جو تیزی آ رہی ہے۔

فیس بک نے اس حوالے سے تھوڑا سا ذکر کیا کہ بدلتے قانونی ڈھانچے کی وجہ سے مشکلات سامنے آ سکتی ہیں۔

پی پی فور سائٹ نامی کمپنی کے تجزیہ کار پاؤلو پسکاٹور نے خبردار کیا کہ ’کمپنیوں کی مالی کامیابی ان کے خلاف شکایات کی تعداد کو بھی بڑھائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کامیابی اور ان کے غلبے کی وجہ سے لوگوں میں پریشانی بڑھے گی اور اس حوالے سے اینٹی ٹرسٹ خدشات کی وجہ سے ان کے خلاف قانون سازی کے مطالبات بھی بڑھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback