24

سردار محمد اسلم خان کے فیصلے قانون کے طلباء کے لیے ایک عظیم راہنماکی حیثیت رکھتے ہیں ۔چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان

مظفرآباد.چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے سپریم کورٹ بار پاکستان کی جانب سے جسٹس سردار محمد اسلم خان کی وفات پرتعزیتی ریفرنس میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تعزیتی ریفرنس میں سپریم کورٹ پاکستان کے جج جسٹس عمر عطا بندیال، سابق چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، فیاض احمد جج اسلام آباد ہائی کورٹ، راجہ ظفرالحق سینیٹر پاکستان مسلم لیگ، سید نیئر بخاری سابق چیئرمین سینٹ، سید قلب حسین ایڈووکیٹ صدر پاکستان سپریم کورٹ بار، منظور قادر ایڈووکیٹ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزادجموں وکشمیر کے علاوہ پاکستان کے نامور وکلاء، ریٹارڈ ججز، ریٹائرڈ و حاضر سروس سول سروس سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آزادجموں وکشمیرجسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ سردار محمد اسلم جیسے انسان صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ وہ انتہائی نفیس، انتہائی ملنسار اور عوام کے دلوں ماین اہم مقام رکھتے تھے۔ سردار محمد اسلم خان کے فیصلے قانون کے طلباء کے لیے ایک عظیم راہنماکی حیثیت رکھتے ہیں۔ہم سب انسانوں نے بلا تخصیص رنگ و نسل اور بلا تفریق عہدہ موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دعوت پر دلی طور پر مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کا خصوصی طور پر مشکور ہوں کہ انہوں نے خصوصی دلچسپی کے ساتھ آزاد کشمیر میں اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کے معاملات میں غیر معمولی تاخیر کا نوٹس لیا۔ پاکستان کشمیریوں کی منزل ہے۔ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ بہت محبت کرتے ہیں اور وہ پاکستان کے شہریوں سے زیادہ وطن عزیز کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ کشمیر ی پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کے وکلاء اور عوام سے توقع ہے کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور وہ دن دورنہیں کہ کشمیر ی عوام کے لیے آزادی کا سورج طلوع ہو گا اور پوری ریاست جموں وکشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback