106

حکومت پاکستان مسلم دنیا کی قیادت کرے اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے,راجہ محمدفاروق حیدر خان

حکومت پاکستان مسلم دنیا کی قیادت کرے اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے,راجہ محمدفاروق حیدر خان

مظفرآباد:وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ فرانس کی جانب سے توہین آمیز خاکے دین اسلام پر حملہ اس کا جواب ایسے دیا جائے جیسے ترکی نے دیا۔وزیراعظم پاکستان فوری اسلامی سربراہی کانفرنس بلائیں۔فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے،انتظامیہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ آزادکشمیر میں فرانسیسی مصنوعات پر پابندی ہوگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی کو کسی کا ڈر خوف نہیں ہوتا۔خوش نصیب ہیں کہ ختم نبوت کو آزاد جموں وکشمیر میں آئین کا حصہ بنانے کی سعادت نصیب ہوئی۔حکومت کیا چیز ہے نبی رحمت پر ہمارے ماں باپ اولاد اور جان بھی قربان ربیع الاول کے مبارک دن بھی مقبوضہ میں بھارتی مظالم نہیں تھمے۔ آج کے مبارک دن مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے لیے خصوصی دعا کریں کہ اللہ پاک انہیں جلد بھارتی تسلط سے نجات دلائے۔افواج پاکستان پر پورا بھروسہ ہے۔ہمارے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں ملک بارود سے آلودہ ہوچکاہے اب ہر گلی محلے سے درود کی خوشبو پھیلنی چاہئے، وہ مرکزی سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام،قومی سیرت کانفرنس،آستانہ عالیہ چشت نگر چھتر کلاس میں محفل میلاد،ایوان وزیراعظم میں محفل میلاد سے خطاب کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاست میں نئے قوانین لائے ہیں جس کے تحت 18سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی پر سزائے موت اور نامرد کرنے کی سزا شامل ہے۔ حکومت پاکستان سے کہتاہوں مسلم دنیا کی قیادت کرے اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، رسول اللہ ﷺکی ذات ہر مسلمان کا ایمان ہے،انہوں نے کہا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اور اْن کے اسوہ حسنہ پر چل کر جموں و کشمیر کو ظلم اور جبر کے نظام سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ حضور رحمت العالمین کی پیروی ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور فلاح کی ضمانت ہے۔ نبی رحمت تمام انسانی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں اور اْن جیسا لیڈر اور رہنما نہ پہلے کبھی کبھی آیا اور نہ آئندہ آئے گا۔ وہ ایک بہترین عسکری رہنما، مثالی حکمران،اعلیٰ پائے کے سیاستدان، مثالی سفارت کار، عائلی زندگی میں بلند اْوصاف کے مالک اور ایک انسان کامل تھے۔قومی سیرت کانفرنس سے ممتاز عالم دین اور مرکزی سیرت کمیٹی کے صدر صاحبزادہ محمد سلیم چشتی، معروف مذہبی سکالرعلامہ مفتی حفیظ اللہ مصطفائی نے بھی فکر انگیز خطاب کیا، اس موقع پر جید علماء کرام اور عاشقان رسول بڑی تعداد میں موجود تھے۔ کانفرنس کی نقابت کے فرائض سیکرٹری جنرل مرکزی سیرت کمیٹی عتیق احمدرضا نے انجام دئے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ہستی کائنات کی سب سے بڑی متبرک اور مقدس ہستی ہے جن کی شان میں گستاخی مسلمانوں کے لیے نا قابل قبول ہے۔ ہم نے تحفظ ناموس رسالت کی جنگی برسوں اقوام متحدہ میں لڑی اور اب وقت آ گیا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے مہم کو تیز تر کیا جائے اور اپنے ملک میں ریاست کے سیاسی معاشی اور سماجی نظام کو حضورﷺ کے بنائے ہوئے اْصولوں اور قرآن کے حکامات کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حضورﷺ کی پیروی انسان کو اعلیٰ ترین مقام تک پہنچاتی ہے اور آج مسلمان حضور ﷺ کی لائے ہوئے دین کی پیروی نہ کر کے کمزور، منتشر اور باہم دست گریباں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد و اتفاق اور بین المسالک ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کو چیلنجوں سے نمٹنے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کی علمبردار قوتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ کیونکہ یہ قوتیں دنیا کے سامنے اسلام کی غلط تصویر پیش کر کے اس عظیم مذہب کو بد نام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان اور حضور کریمﷺکے سچے پیروکار کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے معاشرے اور پورے عالم کی بہتری اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اسلام کے حوالے سے غلط بیانیہ کو فروغ دے کر دین اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں۔ ان حالات میں علماء اور تما م مسلمانوں کی یہ دینی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ وہ گمراہ کن نظریات کو مسترد کر کے اسلام کے روشن اور تا بندہ چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور مسلمانوں اور دیگر انسانوں کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔ حضور نبی کریم ﷺکی زندگی اور اسلامی تعلیمات کو امن اور انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا علیٰ نمونہ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے ہم نے اپنے ہی دین کے اندر تعصبات کی دیواریں کھڑی کر دیں ہیں اور اسلام کو دہشت اور خوف کی علامت بنا دیا ہے جو حضور نبی کریمﷺکے دین سے محبت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم نے قرآن اور محسن انسانیت نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو محدود کر دیا حالانکہ وہ پوری انسانیت کے نجات دہندہ اور رحمت العالمین تھے۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اسلام اور امن کے درمیان ٹوٹا رشتہ دوبارہ بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور حضور نبی کریم اور ان کے جلیل القدر ساتھیوں کی زندگی اور طرز فکر کا پرچار کر کے مسلمانوں کی دنیا اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اْمت مسلمہ پر کڑا اور سخت وقت آیا اور اہل ایمان مایوسیوں کے اندھیروں سے دو چار ہونے لگے تو دین اسلام کی ساکھ بچانے کے لیے اہل حق علماء ہی سامنے آئے۔ اس وقت بھی ملت اسلامیہ کی نشا ۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لیے علمائکرام کے اْسی کردار کی ضرورت ہے تاکہ دین اسلام کا غالب کر کے انسانیت کو درپیش مسائل اور مشکلات سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ حضور کریمﷺکسی خاص قوم، قبیلے، نسل یا علاقے کے پیروکاروں کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت اور تمام عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے اور آپ کا پیغام امن، سلامتی، عدل اور انصاف پر مبنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback