74

دشمن ہمیں نظریاتی طور پر انتشار کا شکار کر کے کمزور کرنا چاہتاہے،فاروق حیدر

دشمن ہمیں نظریاتی طور پر انتشار کا شکار کر کے کمزور کرنا چاہتاہے،فاروق حیدر

مظفرآباد:وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہمیں آپس میں نظریاتی اختلافات سے گریز کرنا چاہیے ۔ ہمارا مشترکہ مطالبہ رائے شماری ہے ۔دشمن ہمیں نظریاتی طور پر انتشار کا شکار کر کے کمزور کرنا چاہتاہے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو پروپیگنڈہ کے ذریعے آزادکشمیر سے متنفر کیا جاتا ہے ۔ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کے مخالف نہیں ہیں ۔ گلگت بلتستان کے حوالہ سے متعلقہ فورمز پر بات ہو چکی ہے ۔ میں ریاست کا وزیراعظم ہوں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتا ہوں ۔ میں کسی کا ذاتی ترجمان نہیں نہ مجھے اسلام آباد سے کسی نے رکھا ہوا ہے ۔آزادکشمیر کا وجود تحریک آزادی کشمیر اور ریاست کی تقسیم کے خلاف ضروری ہے ۔ افواج پاکستان ہماری سلامتی اور بقاءکی علامت ہیں۔ پا ک فوج میں آزادکشمیر کے ہزاروں نوجوان شامل ہیں جو ملک کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں ۔ ہمیں کشمیر یت کو ترجیح دینا ہو گی ۔ کشمیر یت سے مراد صرف کشمیر ی زبان بولنے والا مسلمان نہیں بلکہ ہر مذہب اور زبان بولنے والا کشمیر ی ہے ۔ ہماری لڑئی ہندو¿ مذہب سے نہیں بلکہ انتہا پسند سوچ رکھنے والے مودی کی حکومت سے ہے ۔ اس وقت ہمارا مقابلہ عیار دشمن سے ہے جواقتصادی ،فوجی اور خارجی سطح پر مضبوط ہے ۔ پاکستان میرے وجود کا حصہ ہے مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔ آج کل ملک میں غداری کا سرٹیفکیٹ باٹنے کی روایت چل نکلی ہے جو تشویشناک ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 27اکتوبر یوم ساہ کے حوالہ سے منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ ، آل پارٹیز حریت کانفرنس ، سول سوسائٹی اور تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افرادنے شرکت ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کے حقوق کے مخالف نہیں ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیشہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آزاد کشمیرسے متنفر کیا گیا ہے ۔ ریاست جموںوکشمیر ایک وحدت ہے ہم سب تحریک آزادی کشمیر کے فریق ہیں اور سب کو ملکر ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مشترکہ طور پر رائے شماری کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق جب رائے شماری کا فیصلہ ہو تو پھر ہرفریق آگے کی بات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہماری اپنی فوج ہے ۔ آزادکشمیر کے نوجوان بھی اس فوج کا حصہ ہیں ۔ تاریخ کے بارہ میں کچھ لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں انہیں تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے 1947میں قبائل ہماری دعوت پر آزاد کشمیر آئے ۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ آج کے دن ہم مقبوضہ کشمیر میں حریت کے اسیر قائدین کی رہائی ، کالے قوانین کے کاتمہ ، میڈیا کی بندش ، تحریر و تقریر کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ ہم وفاقی وزارت خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹس کو منظرعام پر لانے میں اپنا کردارادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیری شہداءکو سلام پیش کرتا ہوں اور کشمیر ی بچوں کے ٹارچر کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہماری صفوں میں دشمن چھپا ہوا ہے جسے بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ساری لائن آف کنٹرول کا دور ہ کر رہا ہوں جس میں تمام سیاسی قیادت کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ آئیں اور لائن آف کنٹرول پر بسنے والوں کے حوصلے بڑھائیں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے یہ ہم سب کا فرض ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فرانس میں بنائے جانے والے گستاخانہ خاکوں اور فرانس کے صدر کے انتہاءپسند انہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اس معاملہ پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں کیونکہ اگر اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے تو یہ امن عالم کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے ۔ ٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback