92

برطانوی حکومت و برطانوی وزارت خارجہ نے کشمیر کی سنگین صورتحال کے باوجود بے ضرر بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کیا, سردار مسعود خان

برطانوی حکومت و برطانوی وزارت خارجہ نے کشمیر کی سنگین صورتحال کے باوجود بے ضرر بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کیا, سردار مسعود خان

اسلام آباد: برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور دارالعوام میں شیڈو نائب قائد ایوان افضل خان نے جموں وکشمیر ہاؤس اسلام آباد میں آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کی اور اُن سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال، بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے کی کوششوں سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے اُمور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرنے کا مطالبہ کیا ان میں کشمیریوں کے پیدائشی حق خودارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے دائمی حل کے لئے استصواب رائے کی تجویز دی گئی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے عمل کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کی علامتی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور مقبوضہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور انہیں بھارتی یونین ٹریٹریز قرار دینے کے بعد ڈومیسائل کے نئے قوانین نافذ کیے اور اس کے بعد تسلسل کے ساتھ ایسے قانونی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں غیر کشمیری ہندوستانیوں کے لئے کشمیر کی زمین کی خریداری کی راہ ہموار ہونے کے علاوہ کاروباری اور صنعتی مقاصد کے لئے متنازعہ علاقے میں زمین کی خریداری کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بیس لاکھ لگ بھگ غیر ریاستی ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل جاری کیا گیا ہے اور اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ غیر ریاستی لوگوں کی متنازعہ ریاست میں آبادکاری کے عمل کو روکاجائے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دو تین سال میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمان اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو آنکھوں کی بصارت سے محروم اور انہیں گرفتار کر کے جیلوں اور نظر بندی کیمپوں میں بند کیا جا رہا ہے اور کالے قوانین کے تحت بھارتی قابض فوج کو ہر قسم کے جرائم کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ حکومتی معاملات میں کشمیریوں کا کوئی عمل دخل نہیں کیونکہ اُن کی حقیقی سیاسی قیادت اس وقت جیلوں میں بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر کشمیری لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکرٹری دہلی سے ملنے والے احکامات پر عملدرآمد کر رہے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے برطانوی پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کل جماعتی پارلیمانی کشمیر گروپ کی طرف سے کشمیر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور بھارتی اقدامات کے بارے میں ایک جامع رپورٹ جاری کرنے پر گروپ کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم خاص طور پر لیبر پارٹی کے اراکین کے شکر گزار ہیں جنہو ں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لانے میں ہماری مدد کی ہے۔ تاہم صدر ریاست نے کہا کہ برطانوی حکومت اور برطانوی وزارت خارجہ نے کشمیر کی سنگین صورتحال کے باوجود بے ضرر بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کیا اور اس مسئلہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاملہ قرار دے کر اس کی سنگینی سے نظریں چرانے کی ہمیشہ کوشش کی۔ انہوں نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ، برطانیہ میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ برطانوی حکومت، وزارت خارجہ کو مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں اُٹھانے پر مجبور کریں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی اور ہمارا یہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کے لئے برطانیہ کی ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔ مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں اُجاگر کرنے میں برطانیہ میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے افضل خان نے کہا کہ برطانیہ کی سیاسی جماعتیں اور عوام اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ سے علیحدگی کے باوجود برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یورپین پارلیمنٹ کے سابق اراکین اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دوست پارلیمنٹرین کے ذریعے یورپی پارلیمان میں مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback