50

مقبوضہ کشمیر میں زور دار اندرونی سیاسی تحریک کے امکان کو رد نہیں کا جا سکتا، صدر آزاد کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں زور دار اندرونی سیاسی تحریک کے امکان کو رد نہیں کا جا سکتا، صدر آزاد کشمیر
کشمیریوں میں یہ احساس زور پکڑ رہا ہے کہ گُھٹ گُھٹ کر جیناشاید اب اُن کے لیے ممکن نہیں رہا ہے،
کشمیری ایک دن آزادی ضرور حاصل کریں گے کیونکہ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، افواج پاکسان کے مجلہ ہلال میں سردار مسعود خان کا مضمون

مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں خوفناک جرائم اور آخری مرحلہ میں داخل ہونے والی نسل کشی کا شکار کشمیریوں کی طرف سے ایک زور دار عوامی تحریک کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ کشمیریوں کی اندرونی تحریک ہو سکتی ہے جس میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام میں اب یہ احساس زور پکڑ رہا ہے کہ گُھٹ گُھٹ کر زندگی گزارنا شاہد اب ممکن نہیں رہا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ظلم سے لڑتے لڑتے جو اس دنیا سے چلے گئے وہ تو گئے لیکن جو زندہ ہیں وہ بھی زندہ درگور ہیں اور اب اُن کے لیے اپنی وطن کو دشمن کے قبضہ سے دوبارہ حاصل کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے۔افواج پاکستان کے مجلہ ہلال کے انگریزی ایڈیشنل میں چھپنے والے اپنے ایک خصوصی مضمون میں صدر سردار مسعود خان نے لکھا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں حالات کا رُخ موڑنے کے لیے اپنی صفوں کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو ایک بین الاقوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے کثیر الجہتی عالمی فورمز کی بے حسی سے مایوس ہو کر بیٹھنے کے بجائے ان فورمز کے دروازوں پر دستک دینے کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک وہ اپنے دروازے کھول کر ہماری بات سننے کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔ ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر مسلسل زور دیتے رہنا چاہئے کہ وہ اپنی قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے کے لیے حالات کو سازگار بنائے یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب چھ اور سات کے تحت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے مشاورت کا نیا سلسلہ شروع کرے۔ ہمیں بین الاقوامی سطح پر موجود اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی تنازعہ ہے یادو ملکوں کے درمیان لین دین کا کوئی معاملہ ہے۔ یہ مسئلہ ایک کروڑ چالیس لاکھ انسانوں کی قسمت کا معاملہ ہے جنہوں نے اپنی منزل کا تعین کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں دنیا کی ایسی با اثر پارلیمانز تک پہنچ کر ان کے ساتھ کام کرنا ہو گا جن کا اثر اور وزن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کے حقوق انسانی کونسل اور بین الاقوامی سول سوسائٹی محسوس کرے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کی طاقت اور اُن کا تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک ہے اور جو نہ صرف اپنے سیاسی و معاشی اثر و سوخ سے عالمی رائے عامہ کو تشکیل دینے کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ وہ حق و انصاف کی حمایت اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی طرف مائل بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں اس طاقت کو کشمیر کاز کے لیے استعمال کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر آزا د کشمیر نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ہمیں بھارت کے کشمیر سے متعلق جھوٹے بیانیہ کے غبارہ سے ہوا نکا لنے کے لیے حق اور سچ پر مبنی اپنا بیانیہ بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنا ہو گا اور ہماری کوششیں صرف روایتی اور نئی ابلاغی ذرائع تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں نئی ٹیکنالوجیز کی پورٹلز

اور اُن اداروں تک بھی پہنچنا چاہیے جہاں تنقیدی سوچ پرورش پاتی ہے۔ صدر ریاست نے تجویز کیا کہ ہمیں قیادت اور سیادت نوجوان مرد و خواتین کو منتقل کرنی چاہیے جو پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں خون کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور اُنہیں سیاسی و سفارتی مہم کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی بات کرتے ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اِن مظالم کے ذمہ دار بھارت کے ایک ارب تیس کروڑ عوام ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت میں ایسے پسماندہ اور کچلے طبقات بھی ہیں جن کی اپنی زندگیاں اشرافیہ اور استعماری سوچ رکھنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے دو سو پچاس ملین دلتوں کو کمتر انسان سمجھا جاتا ہے جبکہ بیس کروڑ مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کیا جار ہا ہے اور اِسی طر ح سکھوں، عیسائیوں، قبائلیوں اور معاشی تاریک وطن کو بے ریاستی کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان پسماندہ طبقات کی اکثریت بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ظالمانہ پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ صدر سردار مسعود خان نے یہ بھی تجویز کیا کہ پاکستان کو سیاسی لحاظ سے مستحکم اور معاشی اعتبار سے مضبوط بنایا جائے اور اس مقصد کے لیے قلیل المیعاد اور طویل المعیاد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی بی جے پی۔ آرایس ایس حکومت نے بھارت کے سیکولرازم کا نمائشی نقاب اُتار کر اپنے تمام ہمسائیوں خاص طور پر پاکستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے خلاف کثیر المحاذی جنگ چھیڑ دی ہے۔ اب بھارت میں باقی جو کچھ بچا ہے وہ جنگجو ئی، تشدد، نفرت، تفاوت اور استثنیٰ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس زہریلہ مرکب کا سب سے زیادہ شکار ہندوستانی عوام ہوں گے لیکن اس سے پہلے ہندو توا کی تباہ کن طاقت زنجیروں میں جکڑی کشمیری قوم کو تباہ کر چکی ہو گی۔ ایسی تباہی کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بہادر عوام کا یہ عزم ہے کہ تمام تر حیوانیت کے باوجود وہ ہندوستان سے آزادی حاصل کریں گے کیونکہ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback