71

کشمیر کیلیے.ایک یوم سیاہ.کافی نہیں ہمیں.پوری دنیا کو متوجہ کرنا ہوگاسردار مسعود خان

کشمیر کیلیے.ایک یوم سیاہ.کافی نہیں ہمیں.پوری دنیا کو متوجہ کرنا ہوگاسردار مسعود خان

لاہور: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے صرف سفارتی کوششیں کافی نہیں بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شر وع کرنے کی ضرورت ہے،ایک بڑی موثر عوامی تحریک سے سلامتی کونسل پر دباؤ آئے گا،پاکستان کشمیر سے پیچھے ہٹا ہے نہ موقف میں.کمزوری.آئی.ہے،ہمارا سیاسی اور سفارتی محاذ کمزور نہیں۔ لاہور پریس کلب میں میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود احمد خان کا کہنا تھا کہ بھارت ہندووں کی بڑی تعداد کشمیر میں بسا کر آبادی کا تناسب دو سال میں تبدیلی کرنے کی کشش کر رہا ہے، بھارت کا ہدف ہے دوسال میں پچاس لاکھ افراد کو کشمیر آباد کیا جائے،بھارت کشمیر اور کشمیریوں کی زمین.پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، کشمیر کیلیے.ایک یوم سیاہ.کافی نہیں ہمیں.پوری دنیا کو متوجہ کرنا ہوگا، نولاکھ بھارتی فوجی ظلم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں، سردار مسعود احمد خان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں نسل کشی جاری ہے،پاکستان نے ہردور میں کشمیریوں.کا ساتھ دیا ہے،،کشمیریوں.کی حق خود ارادی کی تحریک کی گونج دنیا بھر کے گلی کوچوں سے آنی چاہیے،سیاسی اختلافات کو بلائے طاق رکھ کر کشمیر کی آواز بلند کی جائے جب یہاں سے اداروں.کے خلاف منفی آواز بلند ہوتی ہے تو کشمیریوں کے.حوصلے ٹوٹتے ہیں، کشمیری نہتے ہیں اور دنیا کی بڑی فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں،سردار مسعود احمد خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف لاہور میں ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہئے تھی،آزاد کشمیر اور پاکستان بھر میں اس پر شدید ردعمل آیا ہے،پاکستانی عوام کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کا علم اٹھا لیں،،بھارت کشمیر کی غلط تصویر عالمی سطح پر پیش کرتا ہے،بتایا جاتا ہے کہ بھارت کشمیر میں دہشت گردوں سے لڑرہا ہے،درحقیقت بھارتی فوج کشمیر میں دہشت گردی کررہی ہے،دنیا کہ چوک و چوراہوں پر کشمیر کہ حق میں آواز اٹھتی نظر آنی چاہیے،بعض جنگیں بغیر ہتھار ٹھائے بھی جنگیں جیتی جاتی ہیں،کشمیر کا کوئی سودا ہوا نہ ہو سکتا ہیپاکستانی عوام کسی کو ایسا کرنے نہیں دیں گے،جب تک مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سیاسی و عوامی تحریک نہیں بنائیں گے یہ مسئلہ حل نہ ہو گا۔ صدر سردار مسعود احمد خان نے کہا ہم چاہتے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو سو فیصد حقوق دیئے جائیں، ریاست متفق ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے اقوام متحدہ میں.ہمارا موقف کمزور ہو، آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں قید ہیں جن.کو.سزائے موت دینے.کی افوائیں.اڑائی جاتی ہیں، کشمیر کیلییایک یوم سیاہ.کافی نہیں ہمیں.پوری.دنیا کو متوجہ.کرنا ہوگا،50.سال بعد سہی کشمیر.پر تین اجلاس ہوئے بد قسمتی کہ.وہ بے نتیجہ رہے، پاکستان.کشمیریوں.کی.آزادی.کے لیے بھر پور کوشش کر.رہا ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان.کی سویت یونین.کے خلاف کامیابی دراصل پاکستان کی کامیابی تھی، انہوں نے کہا بھارت کشمیر کو ہندو.ریاست بنانا چاہتا ہے.،جب تک.کشمیری کو عالمی سیاسی تحریک نہیں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، بھارت دنیا کے سامنے ایسے تصویر پیش کرتا ہے جیسے وہ کشمیر میں دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے، کشمیری نہتے ہیں وہ.اپنے حق کے لیے جد و جہد کر رہے ہیں کشمیریوں.کی حق خود ارادی کی تحریک کی گونج دنیا بھر کے گلی کوچوں سے آنی چاہیے ماضی اور موجودہ.حکومتوں میں تقابل نہیں کرنا چاہتا موجودہ حکومت کا بھر پور آواز اٹھانے پر شکریہ ادا کیا، سیاسی اختلافات کو بلائے طاق رکھ کر کشمیر کی آواز بلند کی جائے،پاکستانی عوام خوفزدہ ہوئے بغیر کشمیر کے لئے آواز بلند کرتے رہیں،انہوں نے کہا گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا معاملہ پر انہوں نے کہا پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو نقشہ جمع کرایا اس میں گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ دکھایا گیا،ہم چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے عوام کو سو فیصد حقوق دئیے جائیں،حکومت پاکستان گلگت کو صوبہ بناتے وقت کوئی ایسا اقدام نہیں کریگی جس سے کشمیر کاز متاثر ہو،اس حوالے سے مشاورت جاری ہے، اجتماعی مشاورت سے حتمی فیصلہ ہوگا۔انہوں نے کہا پاکستان افغان مجاھدین کے پیچھے نہ ہوتا تو وہ کبھی کامیاب نہ ہوتے،سویت یونین کو بھی سیاسی اور سفارتی محاذ پر شکست ہوئی،سیاسی اور سفارتی محاذ کمزور نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا ہم کورونا کے دنوں بھی کشمیر کی جنگ لڑرہے ہیں،جموں کشمیر تاریخی اعتبار سے، قانونی اعتبار سے پاکستان کا حصہ ہے،ہندوستان بے 27 اکتوبر 1947کو زبردستی جموں کشمیر پر قبضہ کر لیا،جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق اجازت ہے کہ کشمیری اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback