81

پاکستان جموں وکشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور اسی طرح پاکستان کے بغیر کشمیر کی کوئی پہچان نہیں ہے,سردار مسعود خان

پاکستان جموں وکشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور اسی طرح پاکستان کے بغیر کشمیر کی کوئی پہچان نہیں ہے,سردار مسعود خان

ْقصور:آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ محنت اور جانفشانی سے تعلیم حاصل کر کے پاکستان کو وہ عظیم ریاست بنائیں جس کا خواب ہمارے آباؤ اجداد نے دیکھا تھا اور جس کے لئے عظیم قربانیاں دے کر یہ مملکت معرض وجود میں لائی گئی تھی۔ طلبہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس بات کا عزم و عہد بھی کریں کہ وہ اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مقبوضہ جموں وکشمیر کے بہنوں اور بھائیوں کو ظلم و استبداد کے نظام اور ہندوستان کی وحشت و بربریت سے نجات نہ دلا دیں کیونکہ پاکستان جموں وکشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور اسی طرح پاکستان کے بغیر کشمیر کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قصور میں اخوت کالج و یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اور پرنسپل ملک شیر افگن نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں صدر آزادکشمیر نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر نہایت مسرت ہوئی کہ اخوت فاؤنڈیشن آزادکشمیر سمیت ملک بھر سے طلبہ کو ایک چھت کے نیچے جمع کر کے اور انہیں معیاری تعلیم دینے کا بندوبست کر کے ایک اہم قومی فریضہ ادا کررہی ہے جس کے لئے فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد اور اُن کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر بھی دلی مسرت ہوئی ہے کہ معاشرے کے کمزور اور غریب طلبہ کو اخوت کالج و یونیورسٹی میں مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں جو اونچ نیچ ہے اور یہاں اگر کچھ لوگ غریب اور کچھ امیر اور طاقتور ہیں تو یہ امتیاز اور فرق اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ یہ انسانوں کی کمی اور کوتاہی ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا سماجی و معاشی نظام تشکیل پاتا ہے اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ انسانوں کے مابین فرق پیدا کرنے والے نظام کو ہم درست کریں۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مختلف معاشی و سماجی پس منظر رکھنے والے طلبہ کو ایک تعلیمی ادارے میں دیکھ کر میرا یہ احساس مزید پختہ ہوا ہے کہ ہمارے ہاں اخوت اور بھائی چارے کا تصور محض نعروں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق مواخات مدینہ سے جا ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام اور کسی بھی دوسرے نظام میں انسانوں کی بے لوث مدد کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے یہ صرف اسلام کا جذبہ اخوت ہے جو بغیر کسی لالچ اور طمع کے دوسروں کی مدد کرنے پر ابھارتا ہے اور یہ اسی بھائی چارے کی طاقت ہے کہ خدا سے پہلی وحی پانے کے بعد حضور نبی اکرم,ﷺ جب غار حرا سے باہر آئے تھے تو وہ اکیلے تھے لیکن آج دنیا کے پانچ براعظموں میں اللہ کی وحدنیت یعنی اللہ اکبر کی صدا بلند کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو غریب و امیر، کمزور و طاقتور اور مختلف مذہبی دھڑوں میں تقسیم کرنے کے عمل کا اسلامی معاشرے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسلام ایک ایسے مضبوط معاشرے کا تصور دیتا ہے جس میں ریاست اور معاشرہ بحثیت مجموعی غریب، نادار اور مفلس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اخوت فاؤنڈیشن نے اسلام کے اسی جذبہ اخوت کی بنیاد پر ایسے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھا ہے جو کمزور ہیں۔ یہ آسان نہیں بلکہ مشکل کام ہے جس کا بیڑہ اخوت فاؤنڈیشن نے اٹھایا ہے۔صدر آزادکشمیر نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ جب عملی زندگی میں قدم رکھیں تو اپنی زندگی کو اس مشن کی تکمیل کے لئے وقف کریں جس کا آغاز اخوت فاؤنڈیشن کے بانیوں نے کیا تھا۔ صدر آزادکشمیر نے اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب کے الفاظ کو دوہراتے ہوئے کہا کہ غربت میں زندگی گزاری جا سکتی ہے لیکن علم کے بغیر نہیں یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے علم کے حصول پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ علم کا حصول اس لئے بھی ضروری ہے کہ آپ کا مقابلہ اردگرد کی ریاستوں کے علاوہ اقوام عالم کے ساتھ ہے اور یہ مقابلہ ان نوجوانوں نے کرنا ہے جو آج یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ میرے سامنے ہر عمر کے بچے بیٹھے ہیں جو آزادی کے ماحول میں بغیر کسی ڈر و خوف کے اپنی تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن ان جیسے بچوں کو مقبوضہ کشمیر میں بغیر کسی جرم کے قتل کر دیا جاتا ہے۔ مقبوضہ ریاست میں نسل کشی ہو رہی ہے اور وہاں بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی بچیاں۔ لوگوں کو شہری آزادیاں حاصل نہیں کیونکہ غیر ملکی فوج نے پورے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیریوں کی اپنی سرزمین پر اُن کے جان و مال کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے اور یوں وہ اپنے وطن میں بے وطن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback