49

کشمیری اور پاکستانی تارکین وطن نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار اد اکیا ہے، صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان

اسلام آباد.صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر پر ہندوستانی جارحیت اور حملے کو 72سال گزر جانے کے باوجود کشمیر کے دلیر اور جرات مند لوگ آزادی کی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں اور اُن کے دلوں میں ابھی تک آزادی کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ صدر آزادکشمیر نے ان خیالات کا اظہار ویڈیو لنک پر کشمیری تارکین وطن کے ممتاز رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ویڈیو کانفرنس کے شرکاء نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہی کو موثر طریقے سے بڑھانے کے لئے ایک واضح حکمت عملی اور مزید مربوط کاوشیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آزادکشمیر اور پاکستانی قیادت کے شکر گزار ہیں جنہوں نے کشمیریوں کے جائز کاز کو اجاگرکرنے کے لئے اپنا بہترین رول ادا کیا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کے لوگ طویل عرصے سے آزادی کے حصول کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور وہ ہندوستان کی تمام دھونس، دھمکیوں اور ظلم کے آگے نہیں جھکے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کے علم کو اب کشمیر کی نوجوان نسل نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں یہ تحریک آزادی و مزاحمت اب کئی گنا بڑھ چکی ہے اور اس میں شدت آچکی ہے۔ صدر نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ اجاگر ہوا ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی میڈیا اور دنیا کی نمایاں پارلیمانوں میں کشمیر پر بحث و مباحثے ہوئے ہیں۔ لیکن کچھ عالمی واقعات جیسے کووڈ19-، بریگزٹ اور اب امریکی صدارتی انتخابات کی وجہ سے کشمیر پر خبروں اور کوریج میں کمی آئی ہے۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان نے ہزاروں غیر ریاستی ہندوؤں کو ہندوستان بھر سے لا کر کشمیر میں آباد کرنا شروع کر دیا ہے اور تقریباً چار لاکھ افراد کو نئے کالے ڈومیسائل قانون کے تحت کشمیری ریاستی باشندوں کو سڑٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی کاروباری حضرات کو کشمیر میں ٹھیکے الاٹ کئے جا رہے ہیں اور اس طرح مقامی لوگوں کو معاشی سرگرمیوں کے مواقعوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ صدر نے کہا کہ ”کشمیر سے ہر روز بری خبریں آ رہی ہیں ہمارے پاس وقت کم ہے یہ وقت ہے کہ ہم کچھ عملی طور پر کریں ہندوستان بڑی تیزی کے ساتھ مقامی آبادی کے تناسب کو تبدیل کر رہا ہے اور مقبوضہ علاقے میں انتظامی تبدیلیاں لانے میں مصروف کار ہے“۔ صدر نے شرکاء سے کہا کہ ہمیں ہندوستان کا پانچ محاذوں پر مقابلہ کرنا ہے، عسکری، سیاسی، سفارتی، ذرائع ابلاغ اور معاشی محاذوں پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی اور طرز عمل فعال اور جارحانہ ہونا چاہیے کیونکہ ہمیں ایک مکار دشمن کا سامنا ہے جس نے کشمیر پر ایک جھوٹا اور غلط بیانیہ اپنایا ہوا ہے۔ مہاتیر بن محمد کے ساتھ پتراجیہ ملائشیاء میں اپنی ملاقات اور گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مہاتیر بن محمد نے انہیں بڑی دانشمندانہ نصیحت کی کہ وہ کشمیر یوں کو دنیا میں اپنے دوستوں کی تعداد میں اضافہ اور دشمنوں کی تعدادمیں کمی لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دشمن کو سمجھنے کے لئے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارا دشمن ظلم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بے دردی کے ساتھ کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے پر کار بند ہے۔ صدر نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سول سوسائٹی کو سرگرم کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ساتھ بائیکاٹ، معاشی پابندیوں اور عدم سرمایہ کاری کی مہم کو شروع کرنا چاہیے اور مسلمان ممالک کو ہندوستان سے نان حلال گوشت درآمد کرنا روک دینا چاہیے۔ کانفرنس کے شرکاء نے آزادکشمیر اور پاکستان کی حکومتوں پر کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں کی جانے والی کاوشوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈر ز کے ساتھ رابطہ کر کے ایک جامع حکمت عملی اپناتے ہوئے کشمیر کاز کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے مربوط کاوشیں کی جائیں گی۔ صدر آزادکشمیر نے کشمیری اور پاکستانی تارکین وطن کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی میڈیا، پارلیمانوں اور دنیا کی سول سوسائٹی تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس پر وہ اُن کے بے حد شکر گزار ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر مسٹر وولکان پوزکرسے اپیل کی ہے کہ وہ ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں ایک منظم طریقے سے غیر قانونی طور پر آبادی کے تناسب میں تبدیلی، اور وہاں طاقت کا بے جا استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں۔ وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اورکشمیری قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات میں صدر آزادکشمیر نے UNGAکے صدر پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ خراب صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے کشمیریوں کے قتل عام کو روکیں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی روک تھام پر توجہ دیں۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جنرل اسمبلی دنیا کی پارلیمان ہے چنانچہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اسے کشمیریوں کے قتل عام، مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ہندوستانی نو آبادکاریوں اور کشمیریوں سے اُن کی زمین چھیننے کے اقدامات کو روکنا چاہیے۔ صدر مسعود نے کہا کہ عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا جنرل اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور تھرڈ، فورتھ اور سکستھ کمیٹیوں کے اختیار میں بھی آتا ہے۔ صدر نے کہا کہ جنرل اسمبلی کی قیادت کو سلامتی کونسل کے ساتھ مشاورت کر کے کشمیریوں پر ظلم و ستم کو فوراً روکنا چاہیے۔صدر مسعود نے جموں وکشمیر کے لوگوں کی طرف سے ڈاکٹر مہاتیر بن محمد سابق وزیر اعظم ملائشیا کا بے حد شکریہ ادا کیا جنہوں نے پانچ اگست 2020کو ماپیم کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک اور واشگاف الفاظ میں کشمیر میں ہندوستانی قبضے اور حملے کی مذمت کی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی۔ صدر نے کہا کہ مہاتیر محمد نے اپنے حالیہ خطاب میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے گزشتہ سال کیے جانے والے خطاب کے ایک ایک لفظ کا دفاع کیا اور اپنے اس موقف کا اعادہ کیا۔ صدر نے کہا کہ کشمیری قوم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی جرات، جذبے اور اصولی موقف کو سلام پیش کرتی ہے۔ آزادکشمیر کے صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ خصوصی اجلاس کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ جس میں پاکستانی موقف کو دوہرایا گیا کہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ پانچ اگست کو آزادکشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانیوں جس ولولے، جوش اور جذبے کے تحت یوم استحصال کو منایا وہ قابل تحسین ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback