38

بنا مال فروخت کئےدُھرا منافع کمانے کی انوکھی خوشی..پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن نے پریس کانفرنس کھڑکا ڈالی

مظفرآباد:عدالت العالیہ نے رٹ خارج کرتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کو فیس وصول کرنے کی اجازت دے دی ہے،نجی تعلیمی اداروں نے 15اگست 2020سے ایس اوپیز کے تحت مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا،گزشتہ روز مرکزی ایوان صحافت میں آزادکشمیر پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن (ایپسکا)کے مرکزی صدر سید اشتیاق حسین بخاری نے دیگر عہدیداران افتخار بٹ،نشاد بٹ،سعدالرشیدہاشمی،محسن بخاری،جواد حیدر،عامر یوسف،طارق رشید کاظمی،ذہین خان،محمد عثمان،راجہ لیاقت،شہزاد کیانی اور کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت العالیہ میں اڑھائی ماہ قبل رٹ دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ کورونا وائرس کے دوران پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو فیس وصول کرنے سے روکا جائے جس پر ہم نے بھی اپنا موقف پیش کیا،گزشتہ روز عدالت العالیہ نے رٹ کو بنیادی انسانی حقوق کے مغائر قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور قرار دیا کہ کوئی بھی ادارہ جو سروسز کے عوض معاوضہ اُسے روکا نہیں جاسکتا،ہم عدالت العالیہ اور ججز کے مشکور ہیں ہمارا موقف حق وسچ پر مبنی تھا عدالت نے اُس کی تائید میں فیصلہ دیا جو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے 15ستمبر سے کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں بچوں کا پہلے ہی بہت زیادہ تعلیمی نقصان ہوچکا ہے اب مزید نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے،ہم 15اگست2020سے ایس او پیز کے تحت مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولیں گے،15سے

22اگست تک والدین کو سکولوں میں بلا کر ایس او پیز کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا،22اگست سے طلبہ کو تین دن بچیوں کو سکول میں بلایا جائے گا جبکہ ہفتہ میں تین دن بچوں کو تعلیم دی جائے گی،کلاس رومز میں سماجی وقفہ رکھا جائے گا،تمام ایس او پیز کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تمام مدارس کھل چکے ہیں کوئی ایک بچہ بھی کورونا سے متاثر نہیں ہوا ہمارے لیے سکولوں میں داخل تمام بچے ہماری اولاد جیسے ہیں جب سکول کھولیں گے سب سے پہلے اپنے بچے لائیں گے،ہم صرف کاروبار نہیں کررہے بلکہ خدمت انسانی کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں،پرائیویٹ تعلیمی اداروں 6لاکھ 89ہزار بچے زیر تعلیم ہیں ان میں سے ایک لاکھ سے زائد مستحق بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں جبکہ 01لاکھ 93ہزار کو فیس میں رعایت دی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ اب والدین ہمارے ساتھ تعاون کریں،فیس ادا کریں کیونکہ اسی فیس سے ہم ٹیچنگ اور معاون سٹاف کو تنخواہ اورعمارات کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران سے اب تک تمام سٹاف کو مکمل تنخواہ ادا کریں گے،ہم ریاست کے شہری ہیں ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ہم نے مستحق بچوں کی کورونا کے دوران اپریل اور مئی کی فیس میں رعایت دی ہے جو متاثرہ شہریوں کے بچے ہیں اُنہیں مزید رعایت بھی دیں گے،معاشرے کے ایسے شہری جو معاشی طورپر کورونا سے متاثر نہیں ہوئے انہیں دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیشن میں وفاقی حکومت نے بچوں کو پروموٹ کیا ہے حکومت بچوں کے مستقبل کو خراب کررہی ہے ہم کسی صورت ان پڑھ ڈگری ہولڈر نسل تیار نہیں کریں گے۔ہم سب صاحب اولاد ہیں بچے ہمیں بہت پیارے ہیں اور ان کے مستقبل کا ہمیں احساس ہے بچوں کے مستقبل کو تباہ نہیں ہونے دینگے،والدین اور شہری نجی تعلیمی اداروں سے تعاون کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback