25

آئی ٹی بورڈ کے ملازمین کا دارالحکومت مظفرآباد میں احتجاجی دھرنا

مظفرآباد: آئی ٹی بورڈ آزاد کشمیر کے 10 اضلاع کے ملازمین کادارالحکومت مظفرآباد میں احتجاجی دھرنا، حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاج، نارمل میزانیہ تک نہ لانے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان، وزیراعظم کی اصولی منظوری ہونے کے باوجود نارمل میزانیہ پر نہ لانا انتہائی افسوناک ہے، احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ذیشان امین،توفیق شاہ، اسمہ حمید خان، ارشد نقوی، زینب، عامر صغیر، ذیشان شاہ، شکیلہ شاہین، نوشین بخاری ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم فاروق حیدر خان کی منظوری کے باوجود ہمیں نارمل میزانیہ پر شفٹ کیا جائے، محکمہ تعلیم اور محکمہ آئی ٹی بورڈ کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس کو منظر عام پر لایا جائے، جس کے تحت تمہیں سکولوں میں حاضر کیا گیا تھا، ایک ہی ریاست کے درجہ اول کے باشندوں کے لئے دو دو قانون کیوں،تمام آئی ٹی ملازمین سکولز کو مستقل کر کے سینکڑوں طلباء کو تعلیمی نقصانا سے بچایا جائے، تمام آئی ٹی ملازمین کے مستقبل کو محفوظ کیا جائے، وزیراعظم کی منظوری کے باوجود ہمیں نارمل میزانیہ پر شفٹ نہیں کیا جارہا، وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ ہے کہ 456 کمپیوٹر ملازمین کو نارمل میزانیہ پر منتقل کر کے مستقل کیا جائے،آئی ٹی بورڈ کی نسب کردہ لیز کو کمپیوٹر انسٹریکٹر کو مستقل کرکے غیر فعال ہونے سے بچایا جائے، تمام آئی ٹی ملازمین سکولز باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو کے ذریعے تعینات ہوئے لہذا انھیں مستقل کیا جائے، دنیا کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں چھ مہینے کا تعلیمی سیشن نہیں ہوتا، لہذا یہ ظلم ختم کیا جائے، سینکڑوں کی تعداد میں طلباء کمپیوٹر کی تعلیم کیلئے رجسٹریشن کروا چکے ہیں انکا تعلیمی حرج نہ کیا جائے، آئی ٹی ملازمین سکولز میں کمپیوٹر انسٹریکٹر، لیب اسسٹنٹ و چوکیدار شامل ہیں، مظاہرین نے چیف جسٹس آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہیکہ ڈپٹی سپیکر فاروق طاہر کا غیر قانونی طریقے سے تعینات ہو سکتا ہے تو پھر ہم غریب والدین کے بچوں کا کیا قصور؟فوری طور پر ہمارے مطالبات کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف فراہم کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback