30

حکومتی شخصیات و ٹک ٹاک اسکینڈلز، رپورٹ منظر عام پر

بول نیوز”میڈیا واچ”وفاقی و پنجاب حکومت کی کئی اہم شخصیات ٹک ٹاک اسکینڈلز کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی و پنجاب حکومت کی کئی اہم شخصیات ٹک ٹاک اسکینڈلز کی زد میں آکر بھی عوامی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنیں، جس کے حکومت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔

اسکینڈلز کی ابتداء اس وقت ہوئی جب ایک ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ گزشتہ سال دسمبر میں بغیر کسی روک ٹوک کے براہ راست دفتر خارجہ کے کانفرنس ہال میں داخل ہوئیں اور کمرے میں ویڈیو بنانے کے بعد وزیراعظم کی نشست پر بیٹھ کر ویڈیو مکمل کر جبکہ عمارت کے مختلف حصوں میں بھی ویڈیوز بنائیں۔

جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا مگر نہ تو تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی اس بات کی کھوج لگائی جاسکی۔

حکومت ابھی حریم شاہ کی اس ویڈیو سے سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ اس ٹک ٹاک اسٹار نے دسمبر 2020 میں ہی موجودہ صوبائی وزیر اطلاعات فیاض چوہان کے ساتھ بنائی گئی ایک مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

اس ویڈیو میں حریم شاہ کے ساتھ ایک اور ٹک ٹاک اسٹار صندل خٹک بھی صوبائی وزیر سے اٹھکیلیاں کرتی نظر آئیں جس کے باعث وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کوغیرسنجیدہ حکومت کا الزام سہنا پڑا۔

ویڈیو کے چند روز بعد ہی ایک آڈیو کال بھی جاری کی گئی جس کے متعلق حریم شاہ کا دعویٰ تھا کہ وہ وزیر اطلاعات فیاض چوہان کی ہے۔

علاوہ ازیں حریم شاہ نے تحریک انصاف کی حکومت پر تیسرا حملہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کے ساتھ ویڈیو گفتگو کی ایک مبینہ ویڈیو جاری کردی۔

اس ویڈیو کے حوالے سے شیخ رشید کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی مگر پھر تین ہفتے بعد شیخ رشید نے حریم شاہ سے گفتگو کا اعتراف کرلیا ۔

حریم شاہ کی ان ویڈیوز کے حوالے سے ابتدائی طور پر تو حکومت کی جانب سے تحقیقات کیے جانے کی خبریں گردش کرتی رہیں البتہ ان ویڈیوز کا یہ اثر ہوا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر ایک ٹک ٹاک اسٹار کا نام پہلی بار اراکین اسمبلی کی جانب سے پکارا جاتا رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

thanks for your feedback